
خلیج اردو
قونصل جنرل حسین محمد نے اپنے پیغام میں کہا کہ "ہم امارات میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں، یہ ویڈیو پاکستانی کمیونٹی کو مقامی قوانین سے آگاہی دینے کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ وہ کسی قانونی مسئلے سے دوچار نہ ہوں۔”
پیغام میں بتایا گیا کہ ملازمت کا آغاز ورک پرمٹ ملنے کے بعد ہی ہوتا ہے، جس کا خرچ کفیل ادا کرتا ہے۔ لیبر کنٹریکٹ عموماً دو سال کا ہوتا ہے اور دورانِ پروبیشن (چھ ماہ) ملازمت چھوڑنے یا ختم کرنے کے لیے پیشگی اطلاع دینا ضروری ہے، بصورتِ دیگر ایک سال کی پابندی عائد ہو سکتی ہے۔
قوانین کے مطابق ملازم کو روزانہ 8 گھنٹے یا ہفتہ وار 48 گھنٹے کام کرنا لازمی ہے، جبکہ رمضان میں اوقاتِ کار 6 گھنٹے ہوں گے۔ اوور ٹائم پر 25 فیصد اضافی تنخواہ، اور چھٹی یا رات کے وقت کام پر 50 فیصد اضافی معاوضہ ملے گا۔
تنخواہ بروقت بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی اور بلاجواز کٹوتی نہیں کی جا سکتی۔ ہر ملازم سالانہ 30 دن کی چھٹی کا حقدار ہے جبکہ بیماری کی صورت میں 90 دن تک چھٹی مل سکتی ہے۔ زچگی کے لیے خواتین کو 60 دن اور والد کو 5 دن کی چھٹی دی جاتی ہے۔
گریجویٹی کے قوانین کے تحت ایک سے پانچ سال تک ملازمت کرنے والے کو ہر سال کی بنیاد پر 21 دن اور پانچ سال سے زائد پر 30 دن کے حساب سے گریجویٹی دی جائے گی، تاہم ایک سال سے کم کام کرنے والے گریجویٹی کے حقدار نہیں۔
قونصل خانہ کے مطابق اماراتی قانون میں رنگ، نسل، مذہب یا جنس کی بنیاد پر امتیاز نہیں کیا جا سکتا، مرد و خواتین کو برابر تنخواہ ملنی چاہیے اور حمل کے باعث خواتین کو ملازمت سے نہیں نکالا جا سکتا۔
اگر آجر تنخواہ نہ دے، پاسپورٹ روک لے یا سہولیات فراہم نہ کرے تو ملازم وزارت انسانی وسائل اور اماراتی مرکز "تسهیل” سے رجوع کر سکتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر معاملہ لیبر کورٹ کو بھیجا جا سکتا ہے۔
قونصل خانہ نے ہدایت کی ہے کہ ملازمین اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں، دوسری کمپنی میں بغیر اجازت کام نہ کریں، اور کسی مسئلے کی صورت میں 80084 ہیلپ لائن پر رابطہ کریں جو 18 زبانوں میں سہولت فراہم کرتی ہے۔







