
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں پولیس نے رہائشی علاقوں میں رات کے وقت گاڑیوں سے دھماکے جیسے بلند شور کی شکایات کے بعد غیر قانونی طور پر ترمیم شدہ کاروں اور موٹر سائیکلوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
متعدد رہائشیوں نے بتایا کہ رات گئے اچانک آنے والی تیز آوازیں ابتدا میں دھماکوں جیسی محسوس ہوتی تھیں، جس سے خوف و ہراس پھیل جاتا تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی کی خبریں بھی زیر گردش ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق یہ آوازیں زیادہ تر نوجوان ڈرائیوروں کی جانب سے گاڑیوں کے انجن تیز کرنے یا خصوصی طور پر تبدیل شدہ سائلنسر استعمال کرنے کے باعث پیدا ہوتی ہیں، جو جان بوجھ کر دھماکے جیسی آواز پیدا کرتے ہیں۔
حکام نے واضح کیا کہ یہ واقعات کسی سیکیورٹی خطرے سے متعلق نہیں بلکہ لاپروا ڈرائیونگ اور غیر قانونی ترمیم شدہ گاڑیوں کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔
دبئی اور شارجہ کے مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے شکایت کی کہ رات کے وقت موٹر سائیکلوں اور تبدیل شدہ گاڑیوں کے انجن کی تیز آوازیں پورے محلوں میں گونجتی ہیں جس سے لوگوں کی نیند اور سکون متاثر ہوتا ہے۔
دبئی پولیس کے آپریشنز کے اسسٹنٹ کمانڈر اِن چیف میجر جنرل سیف مہیّر المزروعی نے کہا کہ پولیس جدید نگرانی کے نظام اور خصوصی مہمات کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا، "ہماری کوشش ہے کہ سڑکوں کی حفاظت کو بہتر بنایا جائے اور رہائشیوں کے سکون کو برقرار رکھا جائے، اسی لیے غیر قانونی ترمیم اور شور پیدا کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔”
شارجہ پولیس کے بریگیڈیئر خلیفہ الخسونی نے بتایا کہ غیر قانونی تبدیلی والی گاڑیوں کی نشاندہی کے لیے خصوصی چیکنگ مہمات اور ناکے قائم کیے گئے ہیں تاکہ رہائشی علاقوں میں امن و سکون برقرار رکھا جا سکے۔
اماراتی ٹریفک قوانین کے تحت ایسی گاڑی چلانے پر جو حد سے زیادہ شور پیدا کرے دو ہزار درہم جرمانہ اور بارہ بلیک پوائنٹس عائد کیے جاتے ہیں، جبکہ گاڑی ضبط بھی کی جا سکتی ہے۔
غیر قانونی طور پر تبدیل شدہ گاڑیوں کے مالکان کو اضافی سزاؤں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں گاڑی کی ضبطی اور رہائی کے لیے دس ہزار درہم تک فیس شامل ہو سکتی ہے۔
پولیس نے والدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ نوجوان ڈرائیوروں پر نظر رکھیں اور ایسی لاپروا حرکتوں سے روکیں جو معاشرے میں خوف یا پریشانی کا سبب بن سکتی ہیں۔







