متحدہ عرب امارات

امارات کا سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ، یمن کی صورتحال میں نام کے غلط استعمال کو مسترد

خلیج اردو

متحدہ عرب امارات نے یمن میں جاری حالیہ واقعات سے متعلق سعودی عرب کی جانب سے جاری بیان پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیان میں امارات کے کردار سے متعلق سنگین غلطیاں شامل ہیں۔ امارات نے واضح طور پر کسی بھی ایسی کوشش کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت اس کا نام یمنی فریقین کے درمیان کشیدگی سے جوڑا جائے، اور ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس نے کسی یمنی فریق پر دباؤ ڈالا یا اسے ایسی عسکری کارروائیاں کرنے کی ہدایت دی جن سے سعودی عرب کی سلامتی یا سرحدوں کو نقصان پہنچے۔

امارات نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی مستقل وابستگی، مملکت کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے مکمل احترام اور کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کا اعادہ کیا ہے جو سعودی عرب یا خطے کے امن کے لیے خطرہ بنے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور تاریخی تعلقات علاقائی استحکام کی بنیاد ہیں اور امارات ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کا خواہاں رہا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق حضرموت اور المہرہ میں واقعات کے آغاز سے ہی امارات کا مؤقف کشیدگی کم کرنے، حالات کو قابو میں رکھنے، سلامتی اور استحکام کے تحفظ اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مفاہمتی کوششوں کی حمایت رہا ہے، جو سعودی عرب کے ساتھ قریبی رابطے اور تعاون سے کی جا رہی ہیں۔

اتحادی افواج کے عسکری ترجمان کی جانب سے مکلا بندرگاہ پر فوجی کارروائی سے متعلق بیان پر امارات نے واضح کیا کہ اسے یمن کے تنازع کو ہوا دینے کے الزامات مکمل طور پر مسترد ہیں، اور یہ بیان اتحادی رکن ممالک سے مشاورت کے بغیر جاری کیا گیا۔ وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ مذکورہ کھیپ میں کوئی اسلحہ شامل نہیں تھا اور اتاری گئی گاڑیاں کسی یمنی فریق کے لیے نہیں بلکہ یمن میں تعینات اماراتی افواج کے استعمال کے لیے تھیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ان گاڑیوں کے حوالے سے امارات اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطہ اور یہ اتفاق موجود تھا کہ گاڑیاں بندرگاہ سے باہر نہیں جائیں گی، اسی لیے مکلا بندرگاہ پر انہیں نشانہ بنائے جانے پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔

وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ یمن میں امارات کی موجودگی جائز یمنی حکومت کی دعوت پر اور سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے فریم ورک کے تحت ہے، جس کا مقصد قانونی حکومت کی بحالی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے، اور اس دوران یمن کی خودمختاری کا مکمل احترام کیا گیا ہے۔ امارات نے اتحاد کے آغاز سے اب تک بڑی قربانیاں دی ہیں اور ہر مرحلے پر یمنی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حالیہ پیش رفت اس بات پر جائز سوالات اٹھاتی ہے کہ ان معاملات کو کس انداز میں سنبھالا جا رہا ہے، ایسے وقت میں جب اعلیٰ سطحی ہم آہنگی، ضبط اور دانائی کی اشد ضرورت ہے، خصوصاً القاعدہ، حوثیوں اور اخوان المسلمون جیسے دہشت گرد گروہوں سے لاحق خطرات کے تناظر میں، اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جاری کوششوں کے تحت۔

وزارت خارجہ نے اختتام پر زور دیا کہ حالیہ معاملات کو ذمہ داری کے ساتھ، مصدقہ حقائق اور باہمی رابطے کی بنیاد پر نمٹایا جانا چاہیے تاکہ کشیدگی سے بچا جا سکے، مشترکہ مفادات اور علاقائی سلامتی کا تحفظ ہو اور یمن بحران کے سیاسی حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button