Transport

دبئی انٹرنیشنل سٹی میں فروری 2026 سے بامعاوضہ پارکنگ، فیس 2 درہم سے 25 درہم تک

خلیج اردو

دبئی: دبئی انٹرنیشنل سٹی میں یکم فروری 2026 سے بامعاوضہ پارکنگ متعارف کرائی جا رہی ہے۔ کمیونٹی میں نصب نوٹس بورڈز کے مطابق پارکنگ فیس صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک لاگو ہوگی، جبکہ اتوار اور سرکاری تعطیلات کے دن پارکنگ مفت ہوگی۔

پارکن کی جانب سے نصب پارکنگ بورڈز کے مطابق فیس کا آغاز 30 منٹ کے لیے 2 درہم سے ہوگا اور 24 گھنٹوں کے لیے زیادہ سے زیادہ 25 درہم وصول کیے جائیں گے۔ بورڈز پر درج تفصیلات کے مطابق پیک اور آف پیک اوقات میں پارکنگ فیس یکساں رہے گی۔ مقررہ نرخوں کے مطابق 30 منٹ کے لیے 2 درہم، ایک گھنٹے کے لیے 3 درہم، دو گھنٹوں کے لیے 6 درہم، چار گھنٹوں کے لیے 12 درہم، پانچ گھنٹوں کے لیے 15 درہم، چھ گھنٹوں کے لیے 18 درہم اور سات گھنٹوں کے لیے 22 درہم فیس ہوگی۔

سات سے 24 گھنٹوں کے درمیان پارکنگ کی کوئی علیحدہ فیس درج نہیں کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سات گھنٹوں سے زیادہ پارکنگ کی صورت میں 24 گھنٹوں کی فیس 25 درہم لاگو ہوگی۔ تاہم پارکن کی ویب سائٹ کے مطابق سات گھنٹوں کے بعد اگلا آپشن 16 گھنٹوں کے لیے 25 درہم ہے، کیونکہ پارکنگ چارجز صرف صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک لاگو ہوں گے۔

انٹرنیشنل سٹی کے لیے پارکنگ کوڈ 621Q مقرر کیا گیا ہے۔ رہائشیوں اور وزیٹرز کے لیے الگ الگ زون یا مختلف نرخوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ دونوں کے لیے یکساں فیس لاگو ہوگی۔ گلف نیوز نے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق کے لیے پارکن سے رابطہ کیا ہے۔

کمیونٹی کے بعض رہائشیوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے علاقے میں دیرینہ پارکنگ مسائل میں کمی آ سکتی ہے۔ سی بی ڈی کلسٹر کے رہائشی پروین کمار کے مطابق متعدد خاندانوں اور بیچلرز کی موجودگی کے باعث پارکنگ کی شدید قلت ہے اور بامعاوضہ پارکنگ سے غیر ضروری استعمال پر قابو پایا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ رینٹل کار کمپنیاں بھی پارکنگ کا غلط استعمال کرتی ہیں، جبکہ اس اقدام سے اصل رہائشیوں کو سہولت مل سکتی ہے۔

ایک اور رہائشی اینٹونی پی ورگیز نے کہا کہ گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث پارکنگ کی کمی روزمرہ کا مسئلہ بن چکی ہے، جس میں طویل عرصے سے کھڑی لاوارث گاڑیاں بھی رکاوٹ بنتی ہیں۔ بعض رہائشیوں نے پک اپ اور کمرشل گاڑیوں کی غیر قانونی پارکنگ پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فارسیا کلسٹر کے سائی کمار ریڈی کے مطابق آر ٹی اے کی پابندیوں کے باوجود یہ گاڑیاں شام کے بعد اور تعطیلات میں رہائشی علاقوں میں پارک کی جاتی ہیں۔

دوسری جانب کئی رہائشی پارکنگ میں رعایت یا استثنا کی امید بھی کر رہے ہیں۔ سترہ برس سے انٹرنیشنل سٹی میں رہائش پذیر بوبی میتھیو نے کہا کہ مفت پارکنگ یہاں رہنے کی ایک بڑی وجہ تھی۔ ان کے مطابق ایک گاڑی کے لیے مخصوص پارکنگ موجود ہے مگر دوسری گاڑی کے لیے مفت پارکنگ پر انحصار کیا جاتا ہے، اس لیے رہائشیوں کے لیے خصوصی کارڈ یا رعایتی نرخ متعارف کرائے جائیں۔

ایک اور رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ 16 گھنٹے کی پارکنگ فیس بہت سے مکینوں کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ زیادہ تر لوگ رات گئے واپس آتے ہیں اور صبح 8 بجے کے بعد نکلتے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں فیس ادا کرنا پڑے گی، جب تک اصل کرایہ داروں کے لیے کوئی استثنا نہ دیا جائے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button