
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کی سب سے بڑی ریمیٹنس اور فارن ایکسچینج کمپنی الحنصری ایکسچینج نے تصدیق کی ہے کہ 5 جولائی بروز ہفتہ کو پیش آنے والا تکنیکی مسئلہ مکمل طور پر حل کر لیا گیا ہے، اور دیگر تمام خدمات اس خرابی سے متاثر نہیں ہوئیں۔
کمپنی نے جمعہ 11 جولائی کو خلیج ٹائمز کو بتایا کہ ہفتہ کے روز جو ترسیلات زر تاخیر کا شکار ہوئیں، وہ اب مکمل طور پر کلیئر کر دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں متعدد یو اے ای رہائشیوں نے شکایت کی تھی کہ ہفتے کے اختتام پر تنخواہ وصول ہونے کے بعد بھیجی جانے والی ترسیلات، جو عام طور پر چند منٹوں میں مکمل ہو جاتی ہیں، کئی دنوں تک تاخیر کا شکار رہیں۔
ایک متاثرہ صارف، آئی ایچ خان، نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ ان کی ترسیل 9 جولائی بروز بدھ کو مکمل ہوئی۔ خان نے کہا، ’’میری اہلیہ برین ہیمرج کی مریضہ ہیں اور ان کی روزانہ کی ادویات بہت مہنگی ہیں۔ ہفتے کے روز میں نے ان کے لیے ماہانہ تنخواہ سے رقم بھیجی تھی لیکن تاخیر نے ہمیں شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر صارفین کو اس تکنیکی خرابی سے بروقت آگاہ کیا جاتا تو وہ متبادل ذرائع سے رقم بھیج سکتے تھے۔
کمپنی کا مؤقف: صرف ایک فیصد سے کم صارفین متاثر ہوئے
الحسنصری ایکسچینج نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ 5 جولائی کو ہمارے نظام میں ایک عارضی تکنیکی خرابی نے محدود تعداد میں ترسیلات کو متاثر کیا۔ مسئلہ فوری طور پر حل کر لیا گیا اور ہماری ٹیمیں مقامی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تمام متاثرہ لین دین کو درست کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔‘‘
کمپنی نے وضاحت کی کہ اس واقعے سے ان کے کل صارفین میں سے صرف ایک فیصد سے بھی کم متاثر ہوا، اور تمام متاثرہ ترسیلات اب بحال کر دی گئی ہیں۔
اگرچہ تکنیکی مسئلے کے مالیاتی اثرات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، تاہم کمپنی نے کہا کہ وہ اپنے وسیع بینکنگ نیٹ ورک اور شراکت داروں کی مدد سے ہر متاثرہ معاملے کو تصفیہ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
کسٹمر سروس دستیاب
الحسنصری ایکسچینج نے کہا کہ اگر کسی صارف کو ابھی بھی اپنے لین دین سے متعلق کوئی شکایت یا سوال ہو تو وہ کسٹمر سپورٹ سے صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک 600 546000 (یا بیرون ملک سے +971 600 546000) پر رابطہ کر سکتا ہے۔
کمپنی نے صارفین اور شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اس مسئلے سے پیدا ہونے والی کسی بھی پریشانی پر معذرت خواہ ہیں اور اپنے تمام صارفین کے صبر اور سمجھ بوجھ کو سراہتے ہیں۔‘






