
خلیج اردو
بھارتی روپے کی اماراتی درہم کے مقابلے میں تاریخی حد تک گراوٹ کے بعد یو اے ای میں مقیم بھارتی شہریوں نے بھاری remittances بھارت بھیجنا شروع کر دیں، کیونکہ انہیں درہم کے بدلے معمول سے کہیں زیادہ بھارتی کرنسی مل رہی ہے۔ بدھ کو شرح مبادلہ تقریباً 24.5 روپے فی ایک درہم تک پہنچ گئی، جس کے باعث رہائشیوں نے اسکول فیس، گھریلو اخراجات اور ماہانہ بلوں کی ادائیگی کے لیے اضافی فائدہ حاصل کیا۔
خلیج ٹائمز کی جانب سے ایکسچینج ہاؤسز کے دورے میں یہ بات سامنے آئی کہ رہائشیوں نے شرح مبادلہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ترسیلات میں نمایاں اضافہ کیا۔ کئی صارفین نے معمول سے زیادہ رقم بھیجی تاکہ وہ مناسب موقع ضائع نہ کریں۔
شارجہ کے رہائشی عارف خان نے بتایا کہ وہ عام طور پر ماہانہ 1,200 سے 1,500 درہم بھیجتے ہیں، لیکن اس بار روپے کی شدید کمزوری دیکھ کر انہوں نے 4,500 درہم بھجوا دیے۔ اس رقم سے ان کے گھرانے کے تین ماہ کے راشن اور روزمرہ اخراجات پورے ہو گئے۔
دبئی کے رہائشی اینتھونی ورگیز نے بتایا کہ بہتر شرح مبادلہ ان کے لیے “ارلی کرسمس گفٹ” ثابت ہوا۔ وہ عموماً 2,000 درہم بھیجتے تھے، لیکن اس بار 3,000 درہم بھیج کر تقریباً 8,000 روپے اضافی حاصل کیے، جس سے بیٹی کی اسکول بس اور ٹیوشن فیس ادا ہو گئی۔
شارجہ کے مکین فارو ق احمد نے بتایا کہ اس بار 900 کی بجائے 1,500 درہم بھجوا کر انہیں 4,500 روپے اضافی ملے، جن سے بجلی کا بل اور گیس سلنڈر کی ادائیگی ہو گئی۔
ایک اور مقیم پاکستانی—محمد فیصل، جو ٹیکسی ڈرائیور ہیں—نے بتایا کہ وہ پہلی بار بغیر مالی دباؤ کے 20,000 کے بجائے 30,000 درہم بھیج سکے، اور ان کے اہل خانہ شملہ میں ونٹر بریک بھی منا آئے۔
اگرچہ کمزور روپیہ امارات میں مقیم متعدد بھارتیوں کے لیے وقتی سہولت کا باعث بنا ہے، لیکن بھارت میں مہنگائی بڑھنے کے سبب گھریلو اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اضافی رقم کے باوجود بھارت میں ماہانہ اخراجات تیزی سے ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ بنیادی ضروریات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔







