visaمتحدہ عرب امارات

دبئی میں غیر قانونی رہائشی اسکیم، خاتون پر پچاس ہزار درہم جرمانہ

خلیج اردو
دبئی: دبئی حکام نے شہریوں اور رہائشیوں کو غیر قانونی طریقوں سے دولت کمانے کے شارٹ کٹس سے خبردار کرتے ہوئے ایک کیس کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے، جس میں ایک خاتون کو غیر قانونی رہائشی خدمات فراہم کرنے پر بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔

مکمل خبر
دبئی پبلک پراسیکیوشن نے اپنی کرائم اینڈ لیسن مہم کے تحت سوشل میڈیا پر ایک کیس شیئر کیا، جس کا مقصد عوام کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ قانونی ضوابط کو نظرانداز کرنے اور نظام کا غلط استعمال کرنے کے نتائج کس قدر سنگین ہو سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق ایک نوجوان خاتون، جس کی شناخت لیلا کے نام سے کی گئی، اضافی آمدن کے حصول کے لیے یو اے ای رہائشی اجازت ناموں کی بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے لگی۔

لیلا نے جائز کاروبار یا ای کامرس کے بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے فری لانس رہائشی خدمات کی پیشکش شروع کی اور اپنے کمرشل لائسنس کو غیر مجاز طور پر بطور درمیانی ذریعہ استعمال کیا۔ ابتدائی طور پر اس سرگرمی سے اسے کامیابی حاصل ہوتی دکھائی دی اور اس نے تقریباً انتالیس غیر قانونی رہائشی ٹرانزیکشنز مکمل کیں، جن کے عوض فی ٹرانزیکشن پانچ سو درہم وصول کیے گئے۔ تاہم یہ تمام سرگرمیاں وفاقی لیبر اور امیگریشن قوانین کی صریح خلاف ورزی تھیں۔

حکام، جو کمرشل لائسنسز اور ویزا کے اجرا پر کڑی نظر رکھتے ہیں، نے جلد ہی اس غیر قانونی اسکیم کا سراغ لگا لیا۔ تحقیقات کے بعد خاتون کو حراست میں لیا گیا اور اس پر بنیادی طور پر پچاس ہزار درہم جرمانہ عائد کیا گیا۔ قانون کے مطابق چونکہ خلاف ورزیوں کی تعداد کے حساب سے جرمانہ بڑھایا جا سکتا ہے، اس لیے اس کی مجموعی مالی ذمہ داری اس کی کمائی سے کہیں زیادہ ہو گئی، یوں بظاہر منافع بخش نظر آنے والی سرگرمی اسے شدید قانونی اور معاشی نقصان میں لے گئی۔

دبئی پبلک پراسیکیوشن نے واضح کیا ہے کہ فوری منافع کی کشش کسی بھی صورت قانون شکنی کا جواز نہیں بن سکتی۔ رہائش اور لیبر پرمٹس جیسے ضابطہ شدہ شعبوں میں بغیر اجازت منافع کمانے کی کوشش حراست، بھاری جرمانوں اور طویل المدتی نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ حکام کے مطابق یہ کیس ایک واضح پیغام ہے کہ حقیقی اور پائیدار کامیابی کا واحد محفوظ راستہ قانونی اور باقاعدہ کام ہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button