خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی امیگریشن حکام نے سالانہ جائزہ رپورٹ میں ایچ ون بی ویزا اور دیگر قانونی امیگریشن پروگراموں کی نگرانی مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ فراڈ کی تحقیقات، نئے ضابطہ جاتی اقدامات اور نفاذی کارروائیوں میں وسعت بتائی گئی ہے۔
مکمل خبر
امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے مطابق روزگار سے وابستہ، طلبہ اور خاندانی بنیادوں پر امیگریشن درخواستوں کی جانچ پڑتال میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس میں اب تک کی سب سے بڑی نفاذی مہم آپریشن ٹوِن شیلڈ بھی شامل ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران ایچ ون بی اور اسٹوڈنٹ ویزوں کے وسیع پیمانے پر غلط استعمال اور شادی کی بنیاد پر جعلی درخواستوں کا انکشاف ہوا، جس کے نتیجے میں ہزاروں ورک سائٹ وزٹس، تقریباً پندرہ سو بالمشافہ انٹرویوز، ویزا فوائد کی مستردگی اور گرفتاریوں عمل میں آئیں۔
یو ایس سی آئی ایس نے روزگار کی اجازت سے متعلق قوانین میں بھی تبدیلی کی ہے، جس کے تحت بعض ورک پرمٹس کی خودکار توسیع ختم کر دی گئی ہے جبکہ تجدید کی درخواستیں زیر التوا ہوں۔ اس کے علاوہ کچھ ایمپلائمنٹ آتھرائزیشن دستاویزات کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال سے کم کر کے اٹھارہ ماہ کر دی گئی ہے تاکہ درخواست گزاروں کی زیادہ بار اسکریننگ اور جانچ ممکن ہو سکے۔
ادارے نے ایک مجوزہ ضابطے کی بھی نشاندہی کی ہے جس کے تحت ایچ ون بی ویزا کو زیادہ مہارت اور زیادہ تنخواہ والے کارکنوں کے لیے ترجیح دی جائے گی، تاکہ امریکی کارکنوں کی اجرت، کام کے حالات اور روزگار کے مواقع کا تحفظ کیا جا سکے۔ زرعی شعبے کے لیے ورک ویزوں کو ہموار بنانے سے متعلق الگ قاعدہ بھی جاری کیا گیا ہے، جسے امریکی معیشت کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
خاندانی بنیادوں پر امیگریشن میں بھی سخت جانچ متعارف کرائی گئی ہے، تاکہ شادیوں اور خاندانی تعلقات کی حقیقت کو یقینی بنایا جا سکے اور فوائد حاصل کرنے کے لیے جعلی اسکیموں کی حوصلہ شکنی ہو۔
یہ اقدامات ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوئم اور یو ایس سی آئی ایس کے ڈائریکٹر جوزف بی ایڈلو کی قیادت میں اپنائی گئی امریکا فرسٹ امیگریشن پالیسی کا حصہ ہیں، جس کا محور عوامی تحفظ اور قومی سلامتی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیس جنوری کے بعد چودہ ہزار چار سو سے زائد افراد کو عوامی تحفظ، قومی سلامتی اور فراڈ سے متعلق خدشات پر آئی سی ای کے حوالے کیا گیا، جن میں ایک سو بیاسی افراد ممکنہ یا تصدیق شدہ قومی سلامتی کے خطرات کے طور پر شناخت ہوئے۔
ادارے نے بتایا کہ مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں سال کے دوران یو ایس سی آئی ایس فیلڈ دفاتر میں دو ہزار چار سو سے زائد گرفتاریاں ہوئیں۔ چھبیس نومبر کو ایک افغان شہری سے متعلق حملے کے بعد بعض گروپس کے لیے اسائلم پراسیسنگ عارضی طور پر روک دی گئی، مخصوص ہائی رسک ممالک سے گرین کارڈ درخواستوں کا دوبارہ جائزہ لینے اور افغانستان سمیت دیگر تشویش ناک ممالک سے بعض درخواستوں کی کارروائی معطل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ افسران کو انیس ہائی رسک ممالک کے درخواست گزاروں کے لیے ملک مخصوص خطرات کو مدنظر رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
یو ایس سی آئی ایس کے مطابق پانچ دسمبر کو ایک نیا ویٹنگ سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی اور قانون نافذ کرنے والے و انٹیلیجنس اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے امیگریشن درخواستوں کی جانچ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ادارے نے بتایا کہ بیس جنوری کے بعد سے انتیس ہزار سے زائد فراڈ ریفرلز کیے جا چکے ہیں اور امیگریشن فراڈ کے خلاف بھرپور کارروائی جاری ہے۔



