
خلیج اردو
یو اے ای سینٹرل بینک کی جانب سے ذاتی قرضوں کے لیے کم از کم تنخواہ کی شرط ختم کرنے کے فیصلے کو رہائشیوں نے خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم مالیاتی ماہرین نے غیر ضروری قرض لینے سے خبردار بھی کیا ہے۔
پاکستانی شہری محمد ہارون، جو دبئی میں ڈرائیور کے طور پر فرائض انجام دیتے ہیں اور ماہانہ 4 ہزار درہم کماتے ہیں، اس فیصلے سے خاصے خوش ہیں۔ ان کے بقول بیٹی کی شادی سے چند ماہ قبل انہیں فوری رقم کی ضرورت تھی۔ پاکستان اور دیگر مقامات پر بینکوں اور منی لینڈرز سے ملنے والے قرضوں پر سود بہت زیادہ تھا، اس لیے وہ پریشان تھے۔ “یہ خبر میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے، امید ہے میرا کریڈٹ اسکور اچھا ہوگا اور میں قرض کے لیے اہل قرار پاؤں گا۔”
مقامی میڈیا کے مطابق منگل کو یہ خبر سامنے آئی کہ سینٹرل بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ ذاتی قرضوں کے لیے 5 ہزار درہم کی کم از کم تنخواہ کی شرط ختم کر دی جائے۔ اب ہر بینک اپنے داخلی رسک پالیسی کے مطابق کم از کم معیار خود طے کر سکے گا۔
مالیاتی مشیر کے وی شمسدین نے اس فیصلے کو جہاں ایک بڑے طبقے تک بینکاری سہولتوں کی رسائی کا ذریعہ قرار دیا، وہیں اسے چیلنج بھی کہا۔ ان کے مطابق ہنگامی حالات میں کم آمدنی والے افراد غیر قانونی ساہوکاروں سے بھاری سود پر قرض لیتے ہیں، جس میں سود 120 فیصد تک ہوتا ہے۔ اگر بینک سہولت دیں تو لوگ غیر قانونی ذرائع کے بجائے قانونی بینکاری چینل استعمال کر سکیں گے۔
تاہم شمسدین نے خبردار کیا کہ اس سہولت کے بعد غیر ضروری قرض لینے کا رجحان بھی بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بعض افراد روپے کی قدر میں معمولی کمی پر بھی قرض لے لیتے ہیں، حالانکہ انہیں اس سے فائدے کے بجائے مزید نقصان ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی کارکنوں کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ کارکنوں کو مالیاتی خواندگی کے بارے میں بہتر طور پر آگاہ کریں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ بینک قرض کیسے کام کرتے ہیں۔
دبئی کی رہائشی سارہ احمد نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے کیریئر کے آغاز میں انہیں والدہ کے علاج کے لیے قرض کی ضرورت پڑی تھی مگر کم تنخواہ کے باعث وہ قرض حاصل نہ کر سکیں اور بالآخر وطن واپس سے رقم لینی پڑی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ نوجوان ملازمین کے لیے بہت مددگار ثابت ہوگا۔
ماہرین کے مطابق نئی پالیسی کے بعد کم آمدنی والے ملازمین کے لیے مخصوص قرضوں، مائیکرو فنانسنگ، ایمرجنسی کریڈٹ، ڈبلیو پی ایس سے منسلک اوور ڈرافٹس اور بائے ناؤ، پے لیٹر جیسی سہولتوں میں اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی نئے ملازمین کے لیے بچت سے منسلک کریڈٹ مصنوعات بھی متعارف ہونے کی توقع ہے۔







