متحدہ عرب امارات

امارات: فون فراڈ کیس میں ملزم کو متاثرہ شخص کو 24 ہزار 500 درہم واپس کرنے کا حکم

خلیج اردو

ابوظہبی کی ایک تازہ عدالتی کارروائی نے ایک بار پھر فون پر کی جانے والی مالی دھوکا دہی کے بڑھتے ہوئے خدشات کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں ایک ملزم کو متاثرہ شخص کے بینک اکاؤنٹ سے غیرقانونی طور پر نکالی گئی 24 ہزار 500 درہم رقم واپس کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ابوظہبی فیملی، سول اور ایڈمنسٹریٹو کیسز کورٹ نے ملزم کو متاثرہ شخص کو ذہنی اذیت پہنچانے پر معاوضہ ادا کرنے اور سالانہ سود دینے کا بھی حکم دیا ہے۔

اس سے قبل فوجداری عدالت نے ملزم کو فراڈ اور غیرقانونی رقم رکھنے کے جرم میں 20 ہزار درہم جرمانہ کیا تھا۔ تاہم 11 نومبر 2025 کے سول فیصلے نے یہ یقینی بنایا کہ متاثرہ شخص کو اس کی مکمل چوری شدہ رقم واپس ملے۔

فراڈ کی تفصیل

ریکارڈ کے مطابق متاثرہ شخص کو ایک ایسے شخص کی کال موصول ہوئی جو خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کر رہا تھا۔ کال کرنے والے نے پیشہ ورانہ انداز میں بتایا کہ بینک کارڈ کی ’’فوری تصدیق‘‘ ضروری ہے، ورنہ کارڈ معطل ہو سکتا ہے۔

متاثرہ شخص نے اسے بینک کارڈ کی تفصیلات اور او ٹی پی فراہم کر دیا، جس کے بعد چند گھنٹوں میں اس کے اکاؤنٹ سے 24 ہزار 500 درہم غائب ہو گئے۔ معاملے کا احساس ہونے پر متاثرہ شخص نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی۔ تفتیش کے دوران ٹرانزیکشنز ملزم تک جا پہنچیں، جس نے چوری شدہ معلومات سے رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کی تھی۔

پبلک پراسیکیوشن نے ملزم پر الیکٹرانک فراڈ، دھوکا دہی اور غیرقانونی رقم رکھنے کے الزامات عائد کیے۔ فوجداری عدالت نے اسے قصوروار قرار دے کر جرمانہ کر دیا، مگر متاثرہ شخص کو رقم نہ مل سکی جس پر اس نے سول مقدمہ دائر کیا۔

متاثرہ شخص کا مطالبہ

– 24,500 درہم کی واپسی
– 25,000 درہم مالی و ذہنی نقصان کا معاوضہ
– 5 فیصد سالانہ سود

عدالت کا فیصلہ اور منطق

سول عدالت نے کہا کہ چونکہ فوجداری عدالت پہلے ہی جرم ثابت کر چکی ہے، اس لیے معاملہ واضح ہے اور متاثرہ شخص اپنی پوری رقم واپس حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔ عدالت نے سالانہ 3 فیصد سود بھی مقرر کیا۔

جج نے تسلیم کیا کہ واقعے سے متاثرہ شخص کو ذہنی اذیت، بے چینی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم کوئی اضافی مالی نقصان ثابت نہ ہونے پر عدالت نے اسے 3 ہزار درہم اخلاقی نقصان کا معاوضہ دیا۔ عدالت نے تمام عدالتی اخراجات بھی ملزم پر ڈال دیے۔

اماراتی حکام بارہا شہریوں کو تنبیہ کرتے رہے ہیں کہ کسی بھی کال پر او ٹی پی، پن کوڈ یا کارڈ ڈیٹیلز ہرگز نہ دیں اور مشکوک کال کی صورت میں فوراً متعلقہ بینک سے رابطہ کریں۔ مرکزی بینک سمیت مختلف ادارے عوام کو آن لائن فراڈ اور فشنگ سے بچانے کے لیے مسلسل آگاہی مہم چلا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button