متحدہ عرب امارات

UAE: ذیابیطس مہنگی ہے؟ تحقیق کے مطابق طبی اخراجات اصل بوجھ کا صرف 5 فیصد ہیں

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں بڑھتی ہوئی شوگر تشویشناک ثابت ہو رہی ہے اور ایک نئی تحقیق کے مطابق ذیابیطس کی اصل قیمت ہسپتال کے اخراجات سے کہیں زیادہ ہے۔ سب سے بڑا نقصان وہ معاشی و سماجی اثرات ہیں جو کام، آمدنی اور پیداواری صلاحیت میں کمی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف برمنگھم دبئی اور عالمی ادارۂ صحت کی مشترکہ تحقیق کے مطابق ذیابیطس کے مجموعی بوجھ کا صرف 5.7 فیصد طبی اخراجات پر مشتمل ہے، جب کہ 94.3 فیصد غیر مستقیم نقصانات کی وجہ سے ہے جو براہ راست لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

ڈاکٹر خلیفہ المشرف کی سربراہی میں کی گئی اس تحقیق میں آئندہ دو دہائیوں میں ذیابیطس کے پھیلاؤ اور اس کے خاندانوں، آمدنی اور معاشی استحکام پر اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

UAE میں کیسز اور دباؤ میں اضافہ
تحقیق کے مطابق 2023 میں امارات میں ذیابیطس کے 8 لاکھ 35 ہزار 629 کیسز تھے، جو 2030 تک بڑھ کر 10 لاکھ 28 ہزار 741 ہونے کا امکان ہے۔ 2040 میں یہ تعداد 12 لاکھ 11 ہزار 327 تک پہنچنے کا اندازہ ہے، جب کہ 2050 تک مریضوں کی تعداد 13 لاکھ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

ذیابیطس سے ہونے والی اموات بھی بڑھنے کی توقع ہے۔ 2023 میں 3 ہزار 777 اموات ریکارڈ ہوئیں، جو 2030 میں 5 ہزار 45 تک پہنچ سکتی ہیں۔ 2040 میں سالانہ 7 ہزار 161 اموات متوقع ہیں، جب کہ 2050 میں 5 ہزار 920 اموات ہو سکتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق قبل از وقت اموات کام کے ضائع شدہ برسوں کی صورت میں سب سے بڑا معاشی نقصان ہیں۔

اقتصادی اثرات
2023 میں امارات میں ذیابیطس کا معاشی بوجھ 19.5 ارب ڈالر تھا، جس کا صرف ایک چھوٹا حصہ طبی اخراجات پر خرچ ہوا۔ باقی نقصان ان عوامل کی وجہ سے ہوا:

کام کی پیداوار میں کمی
دفتر سے غیر حاضری
قبل از وقت ریٹائرمنٹ
قبل از وقت اموات

اس کا مطلب یہ ہے کہ ذیابیطس کا اصل بوجھ کلینک سے باہر نظر آتا ہے، جہاں آمدنی میں کمی، پیشہ ورانہ ترقی میں رکاوٹ اور خاندانوں پر طویل المدتی مالی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

2030 تک ذیابیطس کا بوجھ بڑھ کر 24.7 ارب ڈالر، 2040 میں 30.3 ارب ڈالر اور 2050 میں بھی 30.3 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے، جو ملکی معیشت اور افراد دونوں پر دباؤ بڑھائے گا۔

MENA خطے میں 2050 تک 1.5 ٹریلین ڈالر کا خطرہ
تحقیق کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ذیابیطس کی وجہ سے ہونے والا مجموعی نقصان 2050 تک 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ صرف 2023 میں ہی خطے کو 639 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔

ڈاکٹر خلیفہ المشرف کے مطابق اس بوجھ کا تقریباً 90 فیصد حصہ پیداواری صلاحیت میں کمی سے ہے نہ کہ طبی اخراجات سے۔ اگر احتیاطی اقدامات میں سرمایہ کاری نہ بڑھائی گئی تو انسانی اور معاشی نقصانات ناقابلِ برداشت ہو جائیں گے۔

تحقیق کے مطابق 2023 میں خطے میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 7 کروڑ 40 لاکھ سے زائد تھی، جب کہ اس سال 8 لاکھ 30 ہزار اموات ریکارڈ کی گئیں۔ 2050 تک مریضوں کی تعداد 15 کروڑ اور سالانہ اموات 20 لاکھ تک پہنچ سکتی ہیں۔

یہ تحقیق ایک cost-of-illness ماڈل کے تحت کی گئی، جس میں قبل از وقت اموات کے اثرات کو VSLY طریقہ کار کے ذریعے جانچا گیا۔

تحقیق میں فوری طور پر ذیابیطس کی روک تھام، جلد تشخیص اور آگاہی میں سرمایہ کاری بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے، ورنہ خطے کو مستقبل میں بڑھتے ہوئے صحت اور معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button