
خلیج اردو
ابوظبی — نیویارک یونیورسٹی ابوظبی کے سائنسدانوں نے ایک ایسا کاغذی بنیاد پر تشخیصی آلہ تیار کیا ہے جو صرف 10 منٹ کے اندر متعدی بیماریوں کی شناخت کر سکتا ہے۔ "ریڈیل کمپارٹمنٹلائزڈ پیپر چِپ” (RCP-Chip) نامی یہ آلہ سستا، تیزرفتار اور موبائل ہے، اور اسے لیبارٹری آلات یا تربیت یافتہ عملے کے بغیر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ آلہ کووڈ-19 وبا کے ابتدائی دنوں میں تخلیق کیا گیا، تاکہ کم وسائل یا دور دراز علاقوں میں فوری اور موثر ٹیسٹنگ ممکن بنائی جا سکے۔
نیویارک یونیورسٹی ابوظبی میں مکینیکل انجینئرنگ اور بائیو انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اس تحقیق کے مرکزی مصنف محمد قسیمیہ نے کہا:
"ہماری کوشش تھی کہ ایسا آلہ تیار کیا جائے جو تیز، سستا اور استعمال میں آسان ہو، خاص طور پر ان علاقوں کے لیے جہاں لیب تک رسائی محدود ہو۔”
کثیر المقاصد استعمال
یہ چِپ نہ صرف کووڈ-19 بلکہ چکن پاکس، ڈینگی اور ملیریا جیسی بیماریوں کی تشخیص کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ محض معمولی تبدیلیوں کے ذریعے اسے مختلف وائرسز، بیکٹیریا، ہارمونز اور میٹابولائٹس کی جانچ کے لیے بھی ڈھالا جا سکتا ہے۔
تحقیق کی شریک مصنفہ پویترہ سوکمار نے کہا:
"یہ آلہ حقیقتاً میدانِ عمل میں کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی بیماری کے پھیلاؤ پر فوری قابو پانے، علاج اور علیحدگی کے اقدامات کو بروقت ممکن بنایا جا سکتا ہے۔”
کیسے کام کرتا ہے؟
محمد قسیمیہ کے مطابق یہ ہاتھ سے پکڑنے جتنا چھوٹا آلہ بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکتا ہے اور کم وسائل والے علاقوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
-
یہ آلہ تھوک (saliva) کا استعمال کرتا ہے، ناک یا گلے کے سواب کی ضرورت نہیں۔
-
اسے 60 ڈگری سیلسیس کی معمولی حرارت پر فعال کیا جا سکتا ہے، جو کسی گرم پلیٹ یا تندور سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
-
اسے فوری طور پر کسی بھی علاقے میں روانہ کیا جا سکتا ہے اور استعمال کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق اور مستقبل کے امکانات
اس آلہ کی تیاری میں وبا کے دوران لیبارٹری تک محدود رسائی کے باعث تقریباً دو سال کا وقت لگا۔ ابتدائی مرحلے میں چپ کے ڈیزائن اور مختلف طریقہ کار پر توجہ دی گئی، جبکہ بعد میں ٹیسٹنگ اور تحقیق کا دائرہ بڑھایا گیا۔
اب سائنسدانوں کی ٹیم نے اس آلہ کا پیٹنٹ فائل کر دیا ہے اور ایک اسٹارٹ اپ بھی قائم کر لیا ہے تاکہ تجارتی سطح پر اسے متعارف کرایا جا سکے۔ محمد قسیمیہ کے مطابق:
"ہم سرمایہ کاروں کی تلاش میں ہیں تاکہ اگلے مرحلے میں اس آلہ کو مکمل طور پر مارکیٹ کے لیے تیار کیا جا سکے۔ اسے مزید حالات میں استعمال کے قابل بھی بنایا جا سکتا ہے۔







