
خلیج اردو
10 مارچ 2021
ابوظبہی : متحدہ عرب امارات نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ رواں سال بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی انتہائی پیچیدہ جوہری ہنگامی ڈرل کی میزبانی کرے گا ۔ یہ انتہائی پیچیدہ ہے اور ہر تین سے پانچ سال بعد 36 گھنٹے کیلئے کی جاتی ہے۔
اس ڈرل میں 170 سے زیادہ ممالک شامل ہوں گے ۔ ڈرل کا انعقاد متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے مغرب میں واقع ساحل پر موجود برکاہ ایٹمی بجلی گھر میں ہوگا جو ایرانی ساحلوں سے 340 کلومیٹر (210 میل) دور واقع ہے۔
یہ ڈرل شدید جوہری ہنگامی صورتحال کی صورت میں بین الاقوامی ردعمل اور صلاحیتوں کو جانچنے کیلئے ترتیب دی گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے مستقل نمائندے حمد الکعبی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس سال کی آخری سہ ماہی میں متحدہ عرب امارات آئی اے ای اے کے ذریعہ ایک بین الاقوامی ہنگامی ڈرل کی میزبانی کرے گا ۔ اسے کنویکس -3 ( ConvEx-3 ) بھی کہا جاتا ہے۔
اس ڈرل میں 170 سے زیادہ ممالک سمیت اس خطے کے ممالک کو حصہ لینے کی اجازت ہے۔ ConvEx-3 کے نام سے جانا جانے والا یہ ڈرل IAEA کی اعلی سطح کی ہنگامی ڈرل ہے۔
متحدہ عرب امارات تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک میں چوتھے نمبر پر سب سے بڑے خام پروڈیوسر ہے ۔ اس کے باوجود امارات 2050 تک اپنی نصف ضروریات کو پورا کرنے کیلئے انتہائی قابل تجدید توانائی تیار کرنے کیلئے اربوں درہم خرچ کر رہا ہے۔
عرب دنیا کیلئے پہلا برکاہ پلانٹ اگست میں شروع ہوا جب حکام نے چار ری ایکٹروں میں سے پہلے کا افتتاح کیا جبکہ دوسرے ری ایکٹر نے منگل کو اپنا آپریٹنگ لائسنس حاصل کیا ہے۔
جب اس پلانٹ پر کام مکمل ہوجائے گا تو پلانٹ کے چاروں ری ایکٹرز 5،600 میگا واٹ پیدا کریں گے جو متحدہ عرب امارات کی بجلی کی تقریبا 25 فیصد ضروریات ہیں۔
لیکن یہ خطہ تنازعات سے دوچار ہے اور مشرق کی طرف سے کچھ سو کلو میٹر دور ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کیلئے سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔
جنوب کی طرف یمنی باغی جن کو ایران کی سرپرستی حاصل ہے ، سعودی عرب اور اس کی تیل کی سہولیات پر ڈرون اور میزائلوں سے حملہ کر رہے ہیں۔
یمن کے حوثی باغیوں نے چھ سالہ یمن جنگ میں ملوث ہونے پر جوہری پلانٹ سمیت متحدہ عرب امارات میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
حمد الکعبی کا کہنا ہے کہ برقہ سائٹ کی اچھی طرح سے حفاظت کی گئی ہے۔ ایک سوال جس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ پلانٹ بیرونی خطرات سے محفوظ ہے؟ کے جواب میں انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ جب ہم نے پلانٹ کیلئے لائسنس دیا تو ہم جسمانی تحفظ ، سائبر سیکیورٹی اور تخریب کاری سے بچاؤ اور کسی بھی ممکنہ خطرے سمیت ان تمام عناصر کو مد نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی اضافی معلومات کی بنیاد پر اسے اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا۔
Source : Khaleej Times







