
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات جلد ہی ایک نیا ڈیجیٹل شناختی نظام متعارف کرانے جا رہا ہے، جو چہرے کی شناخت اور بایومیٹرک ٹیکنالوجی کے ذریعے خدمات تک رسائی ممکن بنائے گا، اور یوں روایتی امارات آئی ڈی کارڈ دکھانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ یہ نظام آئندہ ایک سال کے اندر متوقع ہے۔
یہ پیش رفت وفاقی قومی کونسل کے ایک اجلاس میں سامنے آئی، جہاں رکن عدنان الحَمادی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ڈیجیٹل ترقی کے باوجود اب بھی شہریوں کو صحت، بینکاری اور ہوٹلنگ سمیت مختلف شعبوں میں جسمانی امارات آئی ڈی دکھانی پڑتی ہے۔ انہوں نے اسے رہائشیوں کے لیے ایک عملی مسئلہ قرار دیا۔
جواب میں وزیر مملکت برائے ایف این سی امور، عبدالرحمٰن الاویس نے تصدیق کی کہ "ای-امارات آئی ڈی” کئی خدمات میں کامیابی سے رائج ہو چکی ہے، اور ان شعبوں میں اس کے دائرہ کار کو وسعت دینا اب حکام کی ترجیح ہے۔
شناخت، شہریت، کسٹمز اور بندرگاہی تحفظ کے وفاقی ادارے (ICP) کے مطابق یہ نیا نظام UAEPASS ایپ کے ذریعے فعال کیا جائے گا۔ یہ وہی ایپ ہے جو 2021 میں GITEX نمائش کے دوران متعارف کرائی گئی تھی، اور شہریوں کو سرکاری خدمات تک محفوظ ڈیجیٹل رسائی فراہم کرتی ہے۔
اس نظام کے تحت صارفین اپنی سرکاری دستاویزات کی ڈیجیٹل نقول، بشمول ای-امارات آئی ڈی، اپنی موبائل ایپس میں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ تاہم حکام تسلیم کرتے ہیں کہ شناختی تصدیق میں کچھ چیلنجز درپیش ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مختلف شعبہ جات کے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔
حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام اقدامات ڈیٹا کے تحفظ اور متعلقہ قوانین کی مکمل پاسداری کے ساتھ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کو محفوظ، قابل بھروسا اور آسان سروس فراہم کی جا سکے۔







