
خلیج اردو
دبئی: مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور بعض پروازوں کی معطلی کے باوجود، متحدہ عرب امارات میں مقیم شہری اور غیر ملکی اپنی سالانہ گرمیوں کی تعطیلات کے سفر پر قائم ہیں۔ ان کے لیے یہ سفر صرف چھٹیوں کا موقع نہیں بلکہ خاندانی روایت کا حصہ ہے جس سے وہ دستبردار نہیں ہونا چاہتے۔
اسرائیل-ایران تنازع کے باعث علاقائی فضائی حدود متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی پروازوں کے نظام میں خلل پڑا ہے۔ یو اے ای کی ایئرلائنز کو متعدد پروازیں منسوخ کرنا پڑی ہیں، جن میں عراق، اردن، لبنان اور ایران شامل ہیں۔
یو اے ای کے ہوائی اڈوں نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی پرواز کی صورتحال ایئرلائن سے چیک کریں کیونکہ کچھ ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ اسی تناظر میں کچھ اماراتی مسافروں نے اپنی منزلیں تبدیل کی ہیں، جبکہ کچھ نے ایسے ممالک کا انتخاب کیا ہے جو متاثرہ فضائی راستوں سے دور ہیں تاکہ واپسی میں کسی غیر متوقع تاخیر سے بچا جا سکے۔
دبئی سے تعلق رکھنے والی اماراتی خاتون حلیمہ موسیٰ نے بتایا کہ وہ ہر سال کی طرح اس سال بھی موسم گرما میں سفر کر رہی ہیں۔ "میں جولائی کے آغاز میں پانچ دن کے لیے سعودی عرب جا رہی ہوں تاکہ مکہ اور مدینہ میں عمرہ ادا کر سکوں،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود وہ خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں کیونکہ سعودی عرب جنوب میں واقع ہے اور تنازع کے مرکز سے دور ہے۔ اگرچہ وہ ترکی بھی جانا چاہتی تھیں، لیکن موجودہ صورتحال کی وجہ سے انہوں نے اس سفر پر تحفظات ظاہر کیے۔ "جیسے ہی حالات بہتر ہوئے، میں فوراً ترکی کا سفر کروں گی، ورنہ اس سال صرف سعودی عرب ہی جاؤں گی،” حلیمہ نے بتایا۔
دوسری جانب کچھ مسافر بے فکر دکھائی دیے۔ ابو ظہبی سے تعلق رکھنے والے اماراتی عبداللہ، جو ہر تین ماہ بعد بین الاقوامی سفر کرتے ہیں، نے بتایا: "میں کل صبح انڈونیشیا جا رہا ہوں، مجھے قدرتی مقامات بہت پسند ہیں۔” وہ بارہ روزہ سیاحتی سفر پر روانہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے قطر ایئرویز کے ذریعے اپنی پرواز بک کی ہے، جو محفوظ سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہمیشہ احتیاط برتتے ہیں اور اماراتی حکومت کی سفری ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ تین ماہ قبل وہ بھی عمرہ کے لیے سعودی عرب جا چکے ہیں۔
ادھر دبئی کے شہری المحنّدی، جو جون کے آخر میں ایک ہفتے کے لیے اپنے والد کی طرف کے رشتہ داروں سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں، کا کہنا تھا: "میں نے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے، اگر خدا نخواستہ پروازیں معطل ہو گئیں تو میں زمینی راستے سے واپس آ سکتا ہوں۔”
دوسری جانب کئی یو اے ای رہائشیوں نے جارجیا، آرمینیا، آذربائیجان اور ازبکستان کے سفر منسوخ کر دیے ہیں، انہیں خدشہ ہے کہ ایران-اسرائیل تنازع شدت اختیار کرنے کی صورت میں وہ ان ممالک میں پھنس سکتے ہیں۔







