متحدہ عرب امارات

UAE نے ایکسائز ٹیکس کے قواعد میں تبدیلی، زیادہ شکر والے مشروبات پر زیادہ محصولات

خلیج اردو

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خزانہ نے نئے کابینہ فیصلے کا اعلان کیا ہے جس میں ملک میں ایکسائز ٹیکس کے نفاذ کے قواعد میں اہم ترامیم کی گئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں نظام کو جدید بنانے، صحت کے پہلوؤں کو بہتر طور پر شامل کرنے اور ٹیکس کی وضاحت بڑھانے کے لیے کی گئی ہیں۔

اہم تبدیلیوں میں یہ ہے کہ اب ایکسائز ٹیکس فلیٹ ریٹ کے بجائے درجے وار (tiered) ڈھانچے کے تحت لاگو ہوگا، خاص طور پر میٹھے مشروبات پر۔ زیادہ شکر والے مشروبات پر زیادہ ٹیکس لگے گا جبکہ کم شکر والے مشروبات پر کم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

نئے قواعد رپورٹنگ کے تقاضوں کو بھی مضبوط بناتے ہیں اور مصنوعات کے اجزاء کی تصدیق کے لیے لیبارٹری ٹیسٹنگ کے واضح معیارات متعارف کراتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اس کا مقصد درستگی بڑھانا، تنازعات کم کرنا اور ٹیکس کے نفاذ کو مؤثر بنانا ہے۔

کچھ صحت سے متعلق مصنوعات اب اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں، جن میں سگریٹ نوشی چھوڑنے میں مدد دینے والی اشیاء شامل ہیں، جو ایکسائز ٹیکس کے نظام میں صحت کے اہم پہلو کو ظاہر کرتی ہیں۔

وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ کابینہ کا یہ فیصلہ نمبر 198 برائے 2025، کابینہ کے پہلے فیصلے نمبر 37 برائے 2017 میں ترامیم کرتا ہے، جو ایکسائز ٹیکس قانون کے نفاذ کے اصولوں کو واضح کرتا ہے۔ یہ ترامیم حالیہ وفاقی قانون نمبر 7 برائے 2025 کے مطابق کی گئی ہیں، جس میں ایکسائز ٹیکس سے متعلق متعدد شقوں کو اپ ڈیٹ کیا گیا تھا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ تبدیلیاں کاروباروں کے لیے تعمیل کو آسان بنانے، ٹیکس کی ذمہ داریوں میں وضاحت بڑھانے اور مستحکم کاروباری ماحول کو فروغ دینے کے لیے کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ ترامیم ٹیکس کی تعمیل مضبوط کرنے، عوامی آمدنی کے تحفظ اور زیادہ مؤثر و لچکدار ٹیکس نظام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گی۔

وزارت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ یہ تبدیلیاں UAE کے ٹیکس فریم ورک کو بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق لانے کی کوشش کا حصہ ہیں، تاکہ پورے ملک میں ایکسائز ٹیکس کے نفاذ میں شفافیت اور مؤثریت کو بہتر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button