پاکستانی خبریں

عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان کی جنوری میں پاکستان آمد کا امکان، جیل میں سابق وزیراعظم کی صورتحال پر تشویش

خلیج اردو

سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے پاکستان آنے کی تیاری شروع کر دی ہے اور دونوں نے ویزا درخواستیں جمع کرا دی ہیں، امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ جنوری میں اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان کا سفر کریں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عمران خان کی قید اور اڈیالہ جیل کے باہر ان کی بہنوں کے احتجاج کو واٹر کینن کے ذریعے منتشر کیے جانے کے بعد سیاسی فضا مزید کشیدہ ہو چکی ہے۔

ایک انٹرویو میں قاسم خان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پہلے یہ مؤقف سامنے آ چکا ہے کہ دونوں بھائیوں کو والد سے ملاقات کی اجازت ہے، تاہم خاندان کو طویل عرصے سے عدالتی احکامات کے باوجود جیل ملاقاتوں میں رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے، جس سے عمران خان کے ساتھ سلوک پر خدشات جنم لے رہے ہیں۔ قاسم نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کے ڈیل کی بات غیر حقیقی ہے اور ان کے والد اپنی جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کا یقین ہے کہ پاکستان سے کرپشن کے خاتمے کے لیے ان کی جدوجہد ہی ان کی اصل پہچان ہے۔

سلیمان خان نے سوشل میڈیا پر عمران خان کی صحت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کو خاندان کے لیے انتہائی اذیت ناک قرار دیا اور کہا کہ ایسی خبروں کے بعد سب سے پہلے گھر کے واٹس ایپ گروپ میں رابطہ کیا جاتا ہے کیونکہ وہی زمینی حقائق کا واحد معتبر ذریعہ ہے۔ قاسم خان نے بیرون ملک رہتے ہوئے ان افواہوں کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرنے کا اعتراف کیا۔

دونوں بھائیوں نے اپنی دادی لیڈی اینابیل گولڈ اسمتھ کے اکتوبر میں انتقال کے بعد والد سے رابطہ نہ ہو پانے پر بھی دکھ کا اظہار کیا۔ قاسم نے کہا کہ وہ اس ذاتی نقصان پر اپنے والد سے بات کرنا چاہتے ہیں مگر اب تک یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ سلیمان خان نے عمران خان کی جیل میں حالت پر بین الاقوامی نگرانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم یہ یقینی بنایا جائے کہ عالمی انسانی حقوق کے معیارات پر عمل ہو رہا ہے، جبکہ موجودہ حالات میں ان کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ دونوں بھائیوں نے برسلز اور جنیوا جا کر عمران خان کے معاملے پر سیاستدانوں اور حکام سے رابطے کرنے کے منصوبے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ پاکستان میں ان کے والد کی مقبولیت ہی شاید ان کی مسلسل قید کی ایک وجہ ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے عمران خان کے ساتھ سلوک کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کو اہل خانہ، وکلا اور ذاتی معالج تک رسائی حاصل رہی ہے۔ ان کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث کچھ عرصے کے لیے ملاقاتوں پر پابندی لگی مگر بنیادی حقوق کا خیال رکھا گیا۔ مشرف زیدی نے بتایا کہ عمران خان تقریباً 860 دن سے قید میں ہیں اور اس دوران انہوں نے اپنی بہنوں سے 137 ملاقاتیں کیں جبکہ وکلا سے 451 ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں میں وقفہ اس لیے آیا کیونکہ ہر ملاقات سیاسی سرگرمی میں تبدیل ہو جاتی تھی۔

جب عمران خان کے بیٹوں سے پانچ ماہ سے رابطہ نہ ہونے کا سوال اٹھایا گیا تو مشرف زیدی نے کہا کہ ستمبر میں ایک فون کال ہوئی تھی اور حکومت کی جانب سے کسی بھی رکاوٹ یا پابندی نہیں تھی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button