متحدہ عرب امارات

بے روز گار افراد کو اب ایک مہینے کے بجائے چھ مہینے کیلئے ملک میں رہنے کی اجازت ہوگی

خلیج اردو
06 ستمبر 2021
دبئی : وہ غیر ملکی جو اپنی نوکری کھو چکے ہیں وہ اب ملک میں چھ مہینوں کیلئے ٹہر سکتے ہیں۔ اتوار کو متحدہ عرب امارات کئ رہنماؤں نے اعلان کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کا قانون اس وقت ملازمین کو اجازت دیتا ہے کہ وہ 30 دنوں کے اندر ملک چھوڑیں اگر وہ کسی ملازم کا حصہ نہیں اور بے کار ہے۔ تاہم اب حکام نے اس گریئس پیریڈ میں لچک دیکھائی ہے اور اس کے دورانیے میں اضافہ کرتے ہوئے اسے چھ مہینے کا کر دیا ہے۔

اس اعلان سے ایک بہت بڑا ریلف غیر ملکیوں اور خاص کر پاکستانیوں کو ملا ہے۔ اس سے انہین وقت ملے گا کہ وہ اپنے لیے نوکری تلاش کرے۔ اس سے ملک ہی میں ٹیلٹ سے استفادہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیر مملکت برائے امور خارجہ ڈاکٹر تھانی بن احمد الزیودی کا کہنا ہے کہ اب تیس دنوں کے بجائے نوے اور ایک سو اسی دن کیلئے گریس پیریڈ ملے گا۔

یہ متحدہ عرب امارات کے پچاسویں سالگرہ کے موقع پر دیگر رعایتوں کی طرح ایک عوامی فلاحی ریاعیت قائم کی گئی ہے جہاں عوام کیلئے روزگار اور دیگر حوالوں سے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس کے علاوہ دیگر سہولیات میں کاروباری ٹرپ کو تین کے بجائے چھ مہینے کرنا ، والدین کو ڈیریکٹ فیملی ممبرز کے زیر نگرانی اسپانسرشپ میں لانے کی اجازت ، انسانی بنیادوں پر ایک سال کیلئے اجازت نامہ ، والدین کے رہائشی ویزہ میں بچوں کی عمر اٹھارہ سال سے بڑھا کر پچیس سال کر دیا، نوے دن سے ایک سو اسی دن تک بے روزگار افراد کیلئے ملک میں تہرنے کی اجازت دینا شامل ہے۔

یہ متحدہ عرب امارات کے پچاس ویں سالگرہ کے موقع پر عوام کیلئے ایک خوشی کی طور پر کرایا گیا اقدام ہے۔ اس سے مراد عوامی خدمت ہے جو متحدہ عرب امارات کی لیڈرشپ کا خاصا رہا ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button