
خلیج اردو
دبئی: دبئی اور ابوظبی دنیا بھر کے امیر افراد، خاص طور پر کروڑ پتیوں اور ارب پتیوں کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے لیے پسندیدہ ترین مقامات میں شامل ہو گئے ہیں۔ عالمی رئیل اسٹیٹ مشاورتی ادارے Savills کی تازہ رپورٹ کے مطابق ان شہروں نے دولت مند افراد کی توجہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری سرمایہ کاری کے میدان میں بھی سبقت حاصل کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دبئی نے فہرست میں سرفہرست مقام حاصل کیا ہے کیونکہ یہاں مالیاتی سہولیات، معتدل موسم اور بلند معیار زندگی کو یکجا کیا گیا ہے۔ Henley & Partners کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس وقت دبئی میں 81,200 رہائشی کروڑ پتی موجود ہیں، جن میں 237 سینٹی ملینیئر (یعنی کم از کم 100 ملین ڈالر مالیت رکھنے والے افراد) اور 20 ارب پتی شامل ہیں۔ دبئی پچھلے سال عالمی فہرست میں 21ویں سے 18ویں پوزیشن پر آ چکا ہے۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ دس سالوں میں دبئی اور ابوظبی میں سینٹی ملینیئر افراد کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہو جائے گی۔ ابوظبی میں اس وقت 75 سینٹی ملینیئرز مقیم ہیں۔
Savills Dynamic Wealth Indices کے مطابق، دبئی اور ابوظبی ان بارہ شہروں میں شامل ہیں جہاں دنیا کے دولت مند افراد اور کمپنیاں منتقل ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دیگر شہروں میں سنگاپور، زیورخ، آکلینڈ، بوسٹن، نیویارک، سان ہوزے، سیئٹل، میامی، ڈیلس اور سان فرانسسکو شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دبئی اور ابوظبی خاص طور پر ان اعلیٰ مالیت رکھنے والے افراد کے لیے پرکشش ہیں جو اپنی کمپنیاں بھی ساتھ لاتے ہیں۔ ان شہروں کی معیشت تیزی سے تیل پر انحصار کم کر کے دیگر شعبوں میں پھیل رہی ہے، جس کے نتیجے میں کارپوریٹ اور خودمختار دولت کے سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کا اثر رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر بھی پڑا ہے جہاں دبئی میں پرائم رہائشی املاک کی قیمتوں میں 2024 کے دوران 6.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
نئے انڈیکس کے مطابق، کارپوریٹ سرمایہ کاری کے اعتبار سے بھی ابوظبی دنیا کے سرفہرست 5 شہروں میں جبکہ دبئی 11ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ابوظبی نے انفرادی اور کارپوریٹ دونوں سطح پر سرمایہ کاروں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔
Savills Middle East کی ریسرچ ڈائریکٹر راچل کینرلی نے کہا، "ابوظبی کے خودمختار دولت فنڈز نے دنیا بھر سے منسلک فیملی آفسز اور گلوبل کمپنیوں کو متوجہ کیا ہے، جس کی وجہ سے دفترات کی طلب اور پرتعیش رہائش گاہوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔”
رپورٹ کے مطابق بدلتی ہوئی عالمی سیاسی و اقتصادی صورتحال، حکومتی پالیسیوں، ٹیکسوں، مراعات اور معیار زندگی کے عوامل دولت مند افراد اور اداروں کے فیصلوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ Savills ورلڈ ریسرچ کے ڈائریکٹر پال ٹوسٹیون نے کہا کہ "پہلے حکومتی پالیسی، ٹیکس اور مراعات اہم کردار ادا کرتے تھے، لیکن اب رہائش کی جگہ کا معیار اور طرز زندگی فیصلہ کن عوامل بنتے جا رہے ہیں۔







