متحدہ عرب امارات

یو اے ای خاتون کی تصدیق، دبئی پولیس کی ساحل پر بدتمیزی کی رپورٹ پر فوری کارروائی

خلیج اردو
دبئی میں ایک اماراتی خاتون کی جانب سے ساحل پر عوامی بدتمیزی کے واقعے کی رپورٹ کے بعد دبئی پولیس کی جانب سے فوری کارروائی کی گئی ہے، جس کی تصدیق خاتون نے خود سوشل میڈیا پر کی۔ امنہ الحدّاد نے بتایا کہ انہوں نے واقعے کی باضابطہ شکایت درج کرائی جس پر دبئی پولیس معاملے کی پیروی کر رہی ہے، اور انہوں نے پولیس کی پیشہ ورانہ کارروائی پر شکریہ ادا کیا۔ امنہ نے عوام کو یاد دلایا کہ کسی بھی مشتبہ یا قابلِ اعتراض رویے کی اطلاع دبئی پولیس ایپ میں موجود پولیس آئی فیچر کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔
امنہ الحدّاد کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انہوں نے ساحل کے پارکنگ ایریا میں ایک شخص کو عوامی طور پر کپڑے اتارتے ہوئے دیکھا، جسے انہوں نے نہ صرف چونکا دینے والا بلکہ ذاتی طور پر خود کو متاثر کرنے والا عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا رویہ ملک کی ثقافتی اقدار اور عوامی شائستگی کے قوانین کے خلاف ہے اور اس کے اثرات بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
خلیج ٹائمز سے گفتگو میں امنہ الحدّاد نے اس بات پر زور دیا کہ محفوظ اور باوقار ماحول برقرار رکھنا اجتماعی ذمہ داری ہے، اور عوامی مقامات پر قوانین کا احترام ہر فرد کے لیے احساسِ تحفظ اور وقار کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے محض ردعمل تک محدود رہنے کے بجائے تعمیری سوچ اپنانے اور ہوائی اڈوں، ساحلوں، اسکولوں اور شاپنگ مالز جیسے عوامی اور خاندانی مقامات پر آگاہی مہمات مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس معاملے پر کئی رہائشیوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا، جن میں برطانوی تارکِ وطن ہنّا جارج شامل ہیں، جو ایک سال سے زائد عرصے سے دبئی میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کائٹ بیچ پر انہوں نے بعض افراد کو ساحل سے نکل کر عوامی کھانے پینے، پیدل چلنے اور سائیکلنگ کے علاقوں میں انتہائی مختصر لباس میں آتے جاتے دیکھا۔ ان کے مطابق ساحل اور سمندر میں تیراکی کا لباس مناسب ہے، تاہم مشترکہ عوامی مقامات پر مقامی ثقافت اور قانون کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
امارات میں عوامی شائستگی کے قوانین کے مطابق رہائشیوں اور سیاحوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوامی مقامات پر مناسب اور باوقار لباس پہنیں، ساحل یا سوئمنگ پول کے مخصوص علاقوں کے علاوہ عوامی جگہوں پر تیراکی کا لباس پہننا منع ہے، اور برہنہ یا نیم برہنہ ہونا سختی سے قابلِ سزا جرم ہے، جو خاندانی ماحول اور ثقافتی اقدار کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button