
خلیج اردو
یو اے ای میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران اماراتی خاندانوں میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں کئی خاندانوں نے بڑھتے رہائشی و معاشی اخراجات، کیریئر کے تقاضوں اور صحت سے متعلق مسائل کو بچوں کی تعداد محدود رکھنے کی اہم وجوہات قرار دیا ہے۔ وزارتِ صحت و تحفظ کی سرکاری معلومات کی بنیاد پر امارات الیوم کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے 2023 کے درمیان اماراتی نومولود بچوں کی تعداد میں 13.55 فیصد کمی آئی، جس کے تحت 2014 میں 34 ہزار 618 پیدائشوں کے مقابلے میں 2023 میں یہ تعداد کم ہو کر 29 ہزار 926 رہ گئی۔
متعدد خاندانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں زندگی کے دباؤ، مہنگی رہائش، بچوں کی تعلیم اور بہتر معیارِ زندگی کو برقرار رکھنے کی خواہش نے انہیں دو یا تین بچوں تک محدود رہنے پر مجبور کیا ہے۔ دبئی سے تعلق رکھنے والی مریم حمد، جو تین بچوں کی والدہ ہیں، کا کہنا ہے کہ بچوں کی پرورش محض تعداد کا نہیں بلکہ بہتر تربیت اور توجہ کا معاملہ ہے، خاص طور پر جب دادا دادی کے بغیر آزادانہ زندگی گزاری جا رہی ہو۔ انہوں نے پولی سسٹک اووری سنڈروم جیسے صحت کے مسائل اور بڑھتے گھریلو اخراجات کو بھی مزید بچوں میں تاخیر کی وجہ قرار دیا۔
دبئی ہی سے تعلق رکھنے والے عبدالرحمان محمد، جو ایک بیٹی کے والد ہیں، نے بتایا کہ وہ اور ان کی اہلیہ ایک بچے کے ساتھ مطمئن ہیں، کیونکہ سفر، نجی تعلیم اور بہتر سہولیات فراہم کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے، اور مزید بچے ہونے کی صورت میں انہیں سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
شارجہ کی رہائشی اور ایک بچے کی ماں، ریئم علی نے بتایا کہ شادی کے بعد کیریئر کے ابتدائی سالوں میں حمل کا فیصلہ مشکل تھا، کیونکہ طویل اوقاتِ کار اور روزانہ ایک امارت سے دوسری امارت کا سفر ان کے لیے خاصا تھکا دینے والا ثابت ہوا۔ ان کے مطابق کام اور خاندانی زندگی میں توازن قائم کرنے کے لیے وہ فی الحال ایک ہی بچے پر اکتفا کر رہی ہیں۔
یہ معاملہ عوامی سطح پر بھی زیرِ بحث ہے، جہاں کئی اماراتی جوڑوں نے بڑھتی مہنگائی، تعلیم کے اخراجات، طویل کام کے اوقات، خواتین کی دیر سے شادی اور نسبتاً کم تنخواہوں کو تشویش کا باعث قرار دیا ہے۔ ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر رامیا راج کے مطابق دیر سے شادی، مسلسل ذہنی دباؤ، طرزِ زندگی میں تبدیلیاں، ہارمونل مسائل اور مردوں میں بھی بانجھ پن کے بڑھتے کیسز شرحِ پیدائش میں کمی کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ عمر کے ساتھ زرخیزی میں کمی اور حمل کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
دوسری جانب یو اے ای حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں وزارتِ خاندان کا قیام، شادی کے اخراجات میں کمی، اجتماعی شادیوں کا انعقاد اور صحت سے متعلق معاونت شامل ہیں، جبکہ 2026 کو سالِ خاندان قرار دیا جانا بھی خاندانی استحکام اور آبادی میں توازن کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔






