متحدہ عرب امارات

آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی متحدہ عرب امارات کی دوسری آئل پائپ لائن پچاس فیصد مکمل، منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی اپنی دوسری آئل پائپ لائن کی تعمیر تیز کر دی ہے، جس کا تقریباً 50 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ منصوبے کی تکمیل 2027 تک متوقع ہے۔

ادنوک کے منیجنگ ڈائریکٹر اور وزیرِ صنعت و جدید ٹیکنالوجی ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ توانائی کا تحفظ اب صرف پیداوار تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں رسائی، ذخیرہ، متبادل راستے اور سپلائی کی تسلسل بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی چند اہم بحری راستوں سے گزرتی ہے، اسی لیے متحدہ عرب امارات نے ایک دہائی قبل آبنائے ہرمز کے متبادل انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا تھا۔

ڈاکٹر سلطان الجابر کے مطابق نئی پائپ لائن ابو ظبی کی تیل برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور عالمی سپلائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنائے گی، جبکہ متحدہ عرب امارات پہلے ہی فجیرہ کے راستے اپنی کچھ تیل برآمدات آبنائے ہرمز سے ہٹ کر منتقل کر رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی تیل صنعت میں سرمایہ کاری خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت سالانہ تقریباً 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری صرف قدرتی کمی کو پورا کرنے کیلئے کافی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد دنیا ایک ارب بیرل سے زائد تیل سے محروم ہو چکی ہے جبکہ ہر ہفتے تقریباً 10 کروڑ بیرل مزید کمی ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صورتحال صرف تیل تک محدود نہیں بلکہ ایل این جی، جیٹ فیول، کھاد، ایلومینیم، پلاسٹک، معدنیات اور عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر سلطان الجابر نے کہا کہ اگر خطے کی کشیدگی فوری طور پر ختم بھی ہو جائے تو تیل کی ترسیل کو پرانی سطح کے 80 فیصد تک بحال ہونے میں کم از کم چار ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ مکمل بحالی 2027 کے پہلے یا دوسرے سہ ماہی سے پہلے ممکن نہیں دکھائی دیتی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button