
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے سرکاری خدمات کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے خودکار بنانے کے منصوبے کے تحت چار نئے اے آئی ایجنٹس متعارف کرا دیے ہیں، جن کا مقصد ٹیکس آڈٹ، خریداری، تکنیکی معاونت اور عوامی خدمات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
ابوظبی میں منعقدہ “ایجنٹک اے آئی ریٹریٹ” میں 400 سے زائد وزراء اور وفاقی حکام نے شرکت کی، جہاں ملک کے پہلے حکومتی مصنوعی ذہانت ایجنٹس پیش کیے گئے۔ تقریب میں نائب صدر و وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم، شیخ منصور بن زاید النہیان اور شیخ سیف بن زاید النہیان سمیت اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
حکام کے مطابق متعارف کرائے گئے اے آئی ایجنٹس میں سرکاری خریداری کو تیز کرنے والا پروکیورمنٹ ایجنٹ، ٹیکس جانچ کا دورانیہ کم کرنے والا ٹیکس آڈٹ ایجنٹ، عوامی شکایات کے فوری جواب کیلئے کسٹمر ہیپی نیس ایجنٹ اور ڈیجیٹل سروسز کی نگرانی کیلئے ٹیکنیکل سپورٹ ایجنٹ شامل ہیں۔
شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات آئندہ دو برس میں 50 فیصد سرکاری خدمات اور آپریشنز کو مصنوعی ذہانت پر منتقل کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ یہ منصوبہ مستقبل کی حکمرانی کا عالمی ماڈل بن سکتا ہے۔
اس موقع پر ادنوک کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر سلطان الجابر نے بتایا کہ کمپنی پہلے ہی انسانی وسائل، مالیات، خریداری اور آڈٹ سمیت مختلف شعبوں میں 115 سے زائد اے آئی ایجنٹس استعمال کر رہی ہے، جبکہ 20 ہزار ملازمین کو اپنے مخصوص اے آئی ماڈلز تیار کرنے کی تربیت دی جا چکی ہے۔
وزیرِ مملکت برائے مصنوعی ذہانت عمر سلطان العلماء نے کہا کہ جو حکومتیں مصنوعی ذہانت اپنانے میں تاخیر کریں گی وہ عالمی مسابقت میں پیچھے رہ جائیں گی۔







