متحدہ عرب امارات

غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا نفاذ، واپسی اور امدادی راہداریوں کی بحالی شروع

خلیج اردو
غزہ، 10 اکتوبر 2025
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا نفاذ آج عمل میں آیا جس کے بعد جنوبی غزہ سے شمال کی جانب لاکھوں بے گھر افراد کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس معاہدے کے تحت اسرئیلی افواج نے پہلے مرحلے میں طے شدہ حدود تک، معروف "ییلو لائن” تک پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا ہے۔

رفح کراسنگ کھلنے سے غزہ کے وہ شہری جو مصر کے ذریعے باہر گئے تھے، اپنے گھروں کو واپس آنے کے قابل ہو گئے اور بین الاقوامی مداخلت کی بدولت روزانہ کم از کم 600 امدادی ٹرک غزہ میں داخل کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے تا کہ خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر فوری ضروری اشیاء پہنچائی جا سکیں۔ اقوامِ متحدہ اور انسانی تنظیمیں اس بڑے پیمانے پر امدادی داخلے کی تیاری کر رہی ہیں۔

اگرچہ جنگ بندی کا باقاعدہ نفاذ ہوا ہے، تاہم مختلف علاقوں میں ڈرونز اور طیاروں کی کارروائیاں اور ہیلی کاپٹر فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے؛ خان یونس اور غزہ سٹی پر ہونے والے ہیلی کاپٹر حملوں میں کئی افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جس سے شہریوں میں احتیاط اور خدشات برقرار ہیں۔ مقامی حکام اور ریسکیو ادارے متاثرین کی امداد میں مصروف ہیں۔

معاہدے کا انسانیت نواز پہلو یہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں قیدیوں اور اغوا شدگان کی رہائی، اور مواصلاتی روٹس کی بحالی شامل ہیں، مگر بین الاقوامی ادارے اور امدادی تنظیمیں عملدرآمد کے تسلسل اور محفوظ رسائی کے بارے میں محتاط ہیں اور لاگت، استحکام اور طویل المدتی بحالی کے عوامل پر زور دے رہی ہیں۔

یہ مرحلہ غزہ میں جنگ بندی کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، مگر زمینی حقائق اور فیلڈ میں ہونے والی پیش رفت طے کرتی رہے گی کہ آیا یہ عارضی خاموشی مستقل امن میں بدلتی ہے یا نہیں۔

First phase of ceasefire implemented in Gaza; returns and aid corridors resume.

[

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button