
خلیج اردو
04 اپریل 2021
ابوظبہی : متحدہ عرب امارات کی استعاثہ عامہ نے وضاحت کی ہے کہ انلائن فراڈ یا دوسروں کا استحصال کرنے والے اقدام جہاں ان کی رقم غیر قانونی طور پر ہتھیائی جائے اور اس فراڈ کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہو ، تو جرم سرزد ہونے پر دس لاکھ درہم تک جرمانہ کیا جائے گا۔
اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں فیڈرل پبلک پراسیکیوشن نے کہا ہے کہ آن لائن جرائم سے نمٹنے کے بارے میں وفاقی قانون نمبر 5 کے آرٹیکل 11 کے مطابق جو بھی شخص ذاتی املاک پر قبضہ کرے یا دستاویزات کو مسخ کرے یا کسی دھوکہ دہی کے ذریعہ ، یا کمپیوٹر نیٹ ورک ، یا الیکٹرانک انفارمیشن سسٹم یا کسی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے ذریعہ کسی جعلی نام اپنا کر کسی کے ساتھ فراڈ کرے تو اسے کم از کم ایک سال کی قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے یا پھر 250000 سے دس لاکھ درہم جرمانہ کیا جا سکتا ہے ۔
#law #legal_culture #PublicProsecution #SafeSociety #UAE #ppuae pic.twitter.com/uiNHxjtZ8l
— النيابة العامة (@UAE_PP) April 3, 2021
پراسیکیوٹرز نے وضاحت کی ہے کہ انفارمیشن نیٹ ورک کا مطلب انفارمیشن پروگراموں کے دو یا دو سے زیادہ گروپوں اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے ذرائع کے مابین ایک ربط ہے جو صارفین کو معلومات تک رسائی اور تبادلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے جبکہ الیکٹرانک انفارمیشن سسٹم کا مطلب معلومات پروگراموں کا ایک سیٹ ہے اور انفارمیشن ٹکنالوجی کا مطلب ہے اس پر عملدرآمد کرنا ، انتظام کرنا اور الیکٹرانک معلومات کو اکھٹا کرنا یا سیو کرنا ہے۔
آفیسرز نے بتایا ہے کہ انفارمیشن ٹکنالوجی الیکٹرانک ، مقناطیسی ، آپٹیکل ، الیکٹرو کیمیکل یا کوئی دوسرا آلہ ہے جو الیکٹرانک ڈیٹا پر کارروائی کرتے ہیں اور منطقی اور ریاضی کے عمل ، یا اسٹوریج کے افعال کو انجام دیتا ہے اور اس میں کوئی براہ راست منسلک اسباب شامل ہیں جو معلومات کی ٹرانسمیشن کی جازت دیتا ہے۔
آن لائن دھوکہ دہی کے جرمانے کی وضاحت متحدہ عرب امارات کے پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے معاشرے میں شعور پیدا کرنے سے متعلق ہیں۔ اس سے عوام کو اگاہی دینا مقصود ہے۔
Source : Khaleej Times







