متحدہ عرب امارات

وائرل پینگوئن دبئی پہنچ گیا، گلوبل ولیج اور پارکنگ زون کوڈ کی تلاش

خلیج اردو
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا مشہور پینگوئن دبئی میں بھی موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ یہ منظر جرمن فلم ساز ورنر ہرزوگ کی 2007 کی ڈاکیومنٹری Encounters at the End of the World سے لیا گیا ہے، جس میں ایک پینگوئن برف پوش پہاڑوں کی جانب تنہا سفر کرتا دکھائی دیتا ہے، جسے ناظرین نے “نِہلسٹک ڈیتھ مارچ” کا نام دیا۔

دنیا بھر میں اس وائرل کلپ نے نیٹیزنز کو متاثر کیا تو یو اے ای میں مختلف برانڈز نے بھی تخلیقی انداز میں اس پینگوئن کے سفر کو اپنی مہمات کا حصہ بنا لیا۔

دبئی کی پیڈ پارکنگ سروس فراہم کرنے والی کمپنی پارکن کے مطابق پینگوئن دراصل پارکنگ زون کوڈ تلاش کرنے نکلا ہے۔

سالک نے پینگوئن کو برف سے ڈھکی سڑک پر دبئی کے ٹول گیٹ کے سامنے کھڑا دکھایا، جو ایک ناممکن مگر دلچسپ منظر تھا۔

دبئی کے معروف تفریحی مقام گلوبل ولیج کا کہنا ہے کہ پینگوئن ان کے فلوٹنگ مارکیٹ میں کھانے پینے کے اسٹالز کی جانب جا رہا ہے۔

شارجہ میں منعقد ہونے والے ایکسپوژر انٹرنیشنل فوٹوگرافی فیسٹیول نے پینگوئن کی ایک نایاب قریبی تصویر “کیپچر” کرنے کا دعویٰ کیا۔

سیلیکون سینٹرل مال نے بھی پینگوئن کی مال میں موجودگی دکھائی، جبکہ گریمالڈی پیزیریا نے اسے یو اے ای کے واحد کوئلے سے چلنے والے برک اوون پیزا کی تلاش میں بتایا۔

واضح رہے کہ ڈاکیومنٹری میں دکھایا گیا یہ پینگوئن اپنی کالونی اور خوراک کے منبع سے تقریباً 70 کلومیٹر اندرونِ ملک جاتا دکھائی دیتا ہے، جو پینگوئنز کے عام رویے کے خلاف ہے۔ ورنر ہرزوگ کے مطابق یہ سفر ایک پراسرار اور تقریباً خود کو فنا کرنے والا عمل محسوس ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دو دہائیاں پرانا یہ کلپ آج کے ڈیجیٹل دور میں برانڈ مارکیٹنگ اور تخلیقی اظہار کی ایک نئی مثال بن چکا ہے، جو سوشل میڈیا کے رجحانات کی طاقت کو واضح کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button