متحدہ عرب امارات

کیا رمضان کے مختصر اوقاتِ کار یو اے ای میں ملازمین کی پیداواریت کو متاثر کریں گے؟

خلیج اردو
رمضان المبارک کے دوران نجی شعبے کے ملازمین کے اوقاتِ کار میں روزانہ دو گھنٹے کی کمی کی جاتی ہے، جس سے انہیں اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ اگرچہ کم وقت میں زیادہ کام کرنا ایک چیلنج ہو سکتا ہے، تاہم ایچ آر ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان دراصل ملازمین کے لیے ایک “ری سیٹ” ثابت ہوتا ہے۔

وزارتِ انسانی وسائل و اماراتائزیشن ماضی میں بھی رمضان کے دوران سرکاری و نجی شعبے میں کم اوقاتِ کار اور فلیکسبل ورک پالیسیز متعارف کرا چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق ابتدا کے چند دن مشکل ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد ملازمین زیادہ منصوبہ بندی اور توجہ کے ساتھ کام کرنے لگتے ہیں۔

لندن بزنس اسکول کے اسسٹنٹ پروفیسر برائے تنظیمی رویہ اسامہ خان کا کہنا ہے کہ رمضان کے ابتدائی چار سے پانچ دن جسم کے لیے ایڈجسٹمنٹ کا مرحلہ ہوتے ہیں، کیونکہ نیند، کھانے پینے اور معمولات بدل جاتے ہیں۔ ان کے مطابق، “ابتدائی دنوں کے بعد توانائی کی سطح نسبتاً مستحکم ہو جاتی ہے اور توجہ بہتر ہو سکتی ہے۔”

اسامہ خان کے مطابق اگر کام کی جگہ پر لچک اور مینیجرز کی جانب سے سمجھ بوجھ نہ ہو تو یہ مرحلہ مشکل محسوس ہو سکتا ہے، تاہم رمضان میں بہت سے لوگ غیر ضروری سرگرمیاں کم کر کے زیادہ اہم کاموں پر توجہ دیتے ہیں۔

انہوں نے تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ روزہ رکھنے سے دماغی صلاحیت یا ذہنی کارکردگی متاثر ہونے کے شواہد نہیں ملتے، بلکہ بعض اوقات تو توجہ اور فوکس میں بہتری بھی دیکھی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق دفتری (وائٹ کالر) اور جسمانی محنت (بلیو کالر) والے کاموں میں فرق نمایاں ہوتا ہے۔ دفتری کاموں میں کم اوقاتِ کار زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ جسمانی مشقت والے ملازمین کے لیے اضافی آرام، وقفے اور اوقات میں ردوبدل ضروری ہے۔

لنک ویوا کی پیپل اینڈ کلچر ڈائریکٹر جیسی کوئنٹیلا کے مطابق کم اوقاتِ کار بہتر منصوبہ بندی، مضبوط تعاون اور صحت مند ورک لائف بیلنس کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پیداواریت کو کام کے نتائج سے ناپا جانا چاہیے، نہ کہ صرف طویل اوقاتِ کار سے۔

ماہرین کے مطابق رمضان میں مختصر اوقاتِ کار نہ صرف قانونی تقاضا ہیں بلکہ ملازمین کی فلاح، سماجی ہم آہنگی اور پائیدار پیداواریت کے لیے بھی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button