متحدہ عرب امارات

دبئی کے دو رہائشی رمضان میں تقریباً 10 لاکھ افطار میلز فراہم کرنے کے لیے پُرعزم

خلیج اردو
رمضان المبارک کے آغاز سے کافی پہلے دبئی کے تاجر عمران کریم منصوبہ بندی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ جہاں بیشتر لوگ روزوں، عبادات اور گھروں کی تیاریوں میں لگے ہوتے ہیں، وہیں عمران کریم اور ان کے بھائی محمد روزانہ 33 ہزار افراد کے افطار کا انتظام کرنے کی تیاری کرتے ہیں، جو پورے مہینے میں تقریباً 10 لاکھ میلز بنتے ہیں۔

یہ وسیع انتظامات “ہیپی ہیپی یو اے ای” انیشی ایٹو کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہزاروں افراد روزانہ باعزت انداز میں افطار کر سکیں۔ عمران کریم کے مطابق، “اکثر لوگوں کے لیے رمضان روزے سے شروع ہوتا ہے، لیکن ہمارے لیے رمضان کی تیاری بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے تاکہ اتنی بڑی تعداد کے لیے کسی قسم کی غلطی نہ ہو۔”

اس مہم کے تحت سب سے بڑا مرحلہ 450 ٹن چاول کی فراہمی تھا، جو پاکستان سے منگوائے گئے ہیں اور اس وقت سمندر کے راستے یو اے ای آ رہے ہیں۔ عمران کریم کا کہنا ہے کہ یہ آرڈر ایک ملین افراد کے اعتماد سے جڑا ہوتا ہے جو بالآخر ان کھانوں سے روزہ افطار کریں گے۔

چاول کے ساتھ ساتھ پانی، لبن اور کھجوروں کے سپلائرز سے بھی ہفتوں پہلے معاہدے مکمل کر لیے گئے ہیں۔ پانی اور لبن کی پیکنگ جاری ہے جبکہ کھجوریں مخصوص گوداموں میں محفوظ کر دی گئی ہیں۔ عمران کریم کے مطابق، “اتنی بڑی سطح پر کوئی گنجائش نہیں کہ کسی چیز میں کمی رہ جائے۔”

روزانہ تازہ گوشت تیار کیا جاتا ہے، جس کا عمل تراویح کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ یہ گوشت دبئی، شارجہ اور عجمان میں واقع سات کچنز تک پہنچایا جاتا ہے جہاں صبح سے کھانا پکایا جاتا ہے، جبکہ سبزیاں اور پھل بھی روزانہ تازہ منگوائے جاتے ہیں۔

یہ افطار میلز 14 لیبر کیمپس میں تقسیم کی جاتی ہیں، جن میں سب سے بڑا اجتماع دبئی انویسٹمنٹ پارک میں ہوتا ہے جہاں روزانہ تقریباً پانچ ہزار افراد افطار کرتے ہیں۔ تمام مقامات پر ایک ہی وقت میں کھانا پہنچانا ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے۔

پس پردہ تقریباً 6 ہزار رضاکار اس مہم کا حصہ بنتے ہیں، جو تیاری، پیکنگ اور تقسیم میں مدد کرتے ہیں۔ عمران کریم کے مطابق، “رضاکار اس پورے آپریشن کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، جو اپنی مصروفیات چھوڑ کر دوسروں کی خدمت کے لیے وقت نکالتے ہیں۔”

اس کے علاوہ متعلقہ حکام سے اجازت نامے حاصل کرنے کا عمل بھی آخری مراحل میں ہے، جبکہ اشیائے خورونوش کے لیے اسٹوریج کی مکمل سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ مجموعی طور پر اس مہم کے تحت 1095 ٹن سے زائد خوراک اور مشروبات تقسیم کیے جائیں گے۔

عمران کریم کا کہنا ہے کہ افطار کے وقت جب وہ لوگوں کو خاموشی سے روزہ کھولتے دیکھتے ہیں تو ساری تھکن ختم ہو جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مہم نہ صرف رمضان کی روح کی عکاس ہے بلکہ اجتماعی خدمت اور منظم منصوبہ بندی کی ایک نمایاں مثال بھی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button