متحدہ عرب امارات

یو اے ای کی قیادت میں آپریشن گرین شیلڈ، 28 کروڑ ڈالر کے اثاثے ضبط، 839 گرفتار

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی قیادت میں ہونے والے آپریشن گرین شیلڈ 2026 کے دوران ماحولیاتی جرائم کے خلاف 17 روزہ کارروائی میں بڑی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ شیخ سیف بن زاید آل نہیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ آپریشن کے دوران 1,045 فیلڈ آپریشنز کیے گئے۔

کارروائیوں کے نتیجے میں 839 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ماحولیاتی جرائم سے منسلک مواد، آلات اور اثاثے ضبط کیے گئے جن کی مجموعی مالیت 28 کروڑ ڈالر سے زائد بتائی گئی ہے۔

حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد ماحولیاتی جرائم میں ملوث بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا اور ان کی سرگرمیوں میں خلل ڈالنا تھا۔

آپریشن گرین شیلڈ 2026 کیا ہے؟

ماحولیاتی جرائم کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مربوط کارروائی کی ضرورت کے پیش نظر آپریشن گرین شیلڈ 2026 کا آغاز جولائی میں متحدہ عرب امارات کی قیادت میں کیا گیا۔

آپریشن میں کولمبیا، ایکواڈور، پیرو، بولیویا اور برازیل نے بھی شرکت کی۔

کارروائی ایمیزون بیسن کے مختلف علاقوں میں کی گئی اور اسے دنیا کے انتہائی اہم ماحولیاتی خطوں میں ماحولیاتی جرائم کے خلاف ہونے والی بڑی کثیر ملکی قانون نافذ کرنے والی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے مطابق آپریشن کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ مختلف ممالک کے درمیان مربوط تعاون کے ذریعے سرحد پار ماحولیاتی جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ماحولیاتی تحفظ کیلئے عالمی تعاون

متحدہ عرب امارات نے International Initiative for Law Enforcement for Climate (I2LEC) کے ذریعے عالمی سطح پر ماحولیاتی جرائم کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔

یہ اقدام 2023ء میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کے اشتراک سے شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد ماحولیاتی جرائم سے نمٹنے، بین الاقوامی تعاون بڑھانے اور پائیدار ترقی کی حمایت کرنا ہے۔

شیخ سیف بن زاید کے مطابق آپریشن گرین شیلڈ 2026 کی کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات کس طرح بین الاقوامی شراکت داری کو مؤثر عملی کارروائی میں تبدیل کر رہا ہے۔

ان کے مطابق لاطینی امریکا کے مختلف ممالک کو ایک مشترکہ قانون نافذ کرنے والے فریم ورک میں اکٹھا کرکے ماحولیاتی جرائم کے خلاف عالمی سطح پر مزید مؤثر ماڈل تشکیل دینے میں مدد ملی ہے، جس سے آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کی اجتماعی کوششیں مضبوط ہوں گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button