متحدہ عرب امارات

روسی صدر ولادیمیر پوتن کا بھارت پہنچنے پر شاندار استقبال، مودی نے ریڈ کارپٹ پر گلے لگا کر خوش آمدید کہا

خلیج اردو
بھارت اور روس کے درمیان دفاعی اور تجارتی تعلقات کو نئی سطح پر لے جانے کے لیے روسی صدر ولادیمیر پوتن دو روزہ دورے پر جمعرات کو بھارت پہنچے، جہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایئرپورٹ پر خود ان کا استقبال کیا۔ ریڈ کارپٹ پر پرتپاک استقبال کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک ہی گاڑی میں سفر کیا، جسے نئی دہلی کا خصوصی دوستانہ اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یوکرین جنگ کے بعد پوتن کا یہ پہلا بھارتی دورہ ہے، جس میں ان کے ہمراہ روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف بھی موجود ہیں۔ دورے کے دوران لڑاکا طیاروں، فضائی دفاعی نظام اور دیگر دفاعی معاہدوں پر بات چیت کا امکان ہے۔ ایک بھارتی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں پوتن نے وزیراعظم مودی کو اپنا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ملاقات کی خوشی ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان آج نجی عشائیہ جبکہ کل باضابطہ سربراہی ملاقات ہوگی۔ بھارت روس سے تیل کی خریداری جاری رکھتے ہوئے امریکا کے دباؤ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کی روسی تیل درآمدات پر سخت ردعمل ظاہر کر چکے ہیں۔

روسی ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق جدید ایس 400 نظام کی فراہمی میں توسیع اور ممکنہ نئے دفاعی معاہدے ایجنڈے کا اہم حصہ ہیں۔ بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ روس بھارت کو جدید Su-57 لڑاکا طیاروں کی مشترکہ تیاری کی پیشکش کر سکتا ہے۔

بھارت دنیا کے بڑے ہتھیار درآمد کنندگان میں شامل ہے، تاہم مقامی پیداوار بڑھانے کی پالیسی کے باعث حالیہ برسوں میں روسی ہتھیاروں کا تناسب کم ہوا ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات اس وقت بھی مضبوط اور اہم قرار دیے جاتے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں بھارت روسی تیل کا بڑا خریدار بن چکا ہے، جس سے اسے اربوں ڈالر کی بچت ہوئی ہے۔ لیکن روسی کمپنیوں پر بڑھتی پابندیوں اور امریکی دباؤ کے باعث بھارت نے حالیہ مہینوں میں روسی درآمدات میں کمی کی ہے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دورہ دونوں ممالک کے لیے اس نازک جغرافیائی سیاسی مرحلے پر تعلقات کی سمت طے کرنے کی کوشش ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر افسر کے مطابق تجارت میں عدم توازن ایک بڑا مسئلہ ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت سے حل کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق پوتن کا بھارت آنا، جو کم ہی غیر ملکی دورے کرتے ہیں، خود اس تعلق کی اہمیت کا پیغام ہے، جبکہ بھارت کے لیے یہ اس کی اسٹریٹجک خودمختاری کا اظہار ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button