
خلیج اردو
دنیا کے آخری تین ماہ میں داخل ہوتے ہی یو اے ای کے فلک بوس آسمان شاندار فلکی مناظر سے جگمگانے والے ہیں، جن میں تین سپر مون اور تین بڑی میٹیور شاورز شامل ہیں۔ دبئی ایسٹرونومی گروپ کے مطابق سپر مون اس وقت بنتا ہے جب مکمل چاند زمین کے قریب ترین فاصلے پر ہوتا ہے، جس کے باعث وہ 14 فیصد بڑا اور 30 فیصد زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔
پہلا فلکی مظہر 7 اکتوبر کو ہنٹرز مون کی صورت میں نظر آئے گا، جس کے بعد 5 نومبر کو بیور مون دیکھا جا سکے گا جو سال کا سب سے بڑا اور روشن سپر مون ہوگا۔ 5 دسمبر کو کولڈ مون موسمِ سرما کی طویل اور سرد ترین راتوں کے ساتھ نمودار ہوگا۔
ماہرین کے مطابق سپر مون کو دیکھنے کے لیے خصوصی آلات کی ضرورت نہیں، بس چاند کے طلوع یا غروب کے وقت کھلی جگہ سے افق کی جانب دیکھنا کافی ہے۔ صحرا، ساحل یا بلند مقامات بہترین مقامات قرار دیے جاتے ہیں جبکہ دور دراز علاقوں میں جاتے ہوئے گروپ کی صورت میں جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فلکی فوٹوگرافی کے شوقین افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ چاند کو پہاڑوں، عمارتوں یا درختوں جیسے لینڈ مارکس کے ساتھ فریم کریں، مناسب ایکسپوژر رکھیں اور ٹرائی پوڈ کا استعمال کریں۔
سال کی آخری سہہ ماہی میں تین شہابیوں کی بارش بھی رات کے آسمان پر رنگ بکھیرے گی۔ 21 اکتوبر کو اوریونڈز میٹیور شاور ہالی کی دُم دار تارہ سے نکلنے والی تیز اور روشن شہابیاں دکھائے گا، جو رات بارہ بجے کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک بہترین نظر آئے گا۔
17 نومبر کو لیونڈز میٹیور شاور اپنی مخصوص روشن لکیروں کے ساتھ نمودار ہوگا، تاہم اس سال اس کے 10 سے 15 شہابئے فی گھنٹہ دیکھے جا سکیں گے۔
14 دسمبر کو جیمینڈز میٹیور شاور 2025 کا سب سے مضبوط فلکی منظر پیش کرے گا، جو 100 سے زائد شہابیوں فی گھنٹہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ شہابئے دم دار تارے سے نہیں بلکہ ایسٹرائیڈ فییتھون 3200 سے آتے ہیں اور عموماً پیلے، سبز، نیلے یا سرخ رنگوں میں چمکتے ہیں۔
فلکی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ میٹیور شاورز دیکھنے کے لیے شہر کی روشنیوں سے دور کھلے اور تاریک مقامات کا انتخاب کیا جائے، ایک چادر یا میٹ ساتھ رکھا جائے اور آسمان کی جانب وسیع زاویے سے دیکھا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ روشن لکیریں دیکھی جا سکیں۔







