متحدہ عرب امارات

دبئی کی سپر مارکیٹس میں پرانے درہم نوٹوں کی تلاش، شوق یا سرمایہ کاری؟

خلیج اردو
دبئی: دبئی کی ایک مصروف سپر مارکیٹ کے چیک آؤٹ کاؤنٹر پر عائشہ مطر نے کیشیئر سے ایسا سوال کیا جو وہ شاید سننے کی توقع نہیں کر رہے تھے: "کیا آپ کے پاس پرانا 20 درہم کا نوٹ ہے؟”

متحدہ عرب امارات میں پرانے کرنسی نوٹوں کو محفوظ رکھنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک درہم کے کاغذی نوٹ سے لے کر پرانے ڈیزائن والے 5، 10 اور ابتدائی 20 درہم کے نوٹوں تک، ایک مخصوص طبقہ ان نوٹوں کو بطور یادگار، ثقافتی ورثے یا سرمایہ کاری کے طور پر محفوظ کر رہا ہے۔ دبئی کے رہائشی چھوٹے کریانہ اسٹورز اور کیش ٹرانزیکشنز والے کاروباروں کا دورہ کرتے ہیں تاکہ وہ وہ نوٹ تلاش کر سکیں جو عام گردش سے تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

عائشہ کے مطابق، "یہ صرف ایک نوٹ نہیں، یہ ہمارے ماضی سے جُڑی یاد ہے۔ جس کاغذ کی خوشبو، رنگ اور ساخت کے ساتھ ہم بڑے ہوئے، وہ نئے نوٹوں میں نہیں ملتی۔” حال ہی میں انہوں نے ایک نایاب 10 فلس کے سکے کا پورا رول بھی اپنی کلیکشن میں شامل کیا، جو اب مارکیٹ میں تقریباً نایاب ہو چکا ہے۔

یادیں یا سرمایہ کاری؟

اصل سرخ اور نیلے رنگ کے 5 اور 10 درہم کے نوٹوں سے لے کر مختصر مدت کیلئے جاری ہونے والے نارنجی 200 درہم کے نوٹ تک، کلکٹرز ان کرنسیوں کی تلاش میں ہیں جو ایک وقت میں روزمرہ زندگی کا حصہ تھیں۔ دبئی کے احمد آر نے بتایا کہ "لوگوں کو اندازہ نہیں کہ کتنے نوٹ مارکیٹ سے غائب ہو چکے ہیں۔ یہ نوٹ نہ صرف ڈیزائن میں خاص تھے بلکہ کچھ تو مکمل طور پر بند کر دیے گئے۔”

احمد کی کلیکشن میں سب سے قیمتی نوٹ 1970 کی دہائی کا ایک درہم کا کاغذی نوٹ ہے، جو اب مکمل طور پر ماند پڑ چکا ہے۔ "لوگوں کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ کبھی ایک درہم کا کاغذی نوٹ بھی ہوتا تھا۔”

نارنجی 200 درہم کا نایاب نوٹ

1989 میں جاری ہونے والا نارنجی رنگ کا 200 درہم کا نوٹ کلکٹرز میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اس کی منفرد رنگت اور ڈیزائن کی وجہ سے یہ جعلسازی کا نشانہ بنا، جس کے بعد مرکزی بینک نے اس کی تقسیم روک دی۔ ابو ظہبی کے کلیکٹر عمر اے کے مطابق، "آج اگر کسی کو یہ نوٹ اچھی حالت میں مل جائے تو کمیونٹی میں اس کی بہت اہمیت ہے۔”

کلکٹرز کی خفیہ کمیونٹی

جو شوق کبھی خاموشی سے شروع ہوا تھا، وہ اب ایک چھوٹی مگر مربوط کمیونٹی میں بدل چکا ہے۔ کلکٹرز آن لائن فورمز اور سوشل میڈیا گروپس پر نوٹوں کی تصاویر شیئر کرتے ہیں، ان کی حالت پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور خرید و فروخت بھی کرتے ہیں۔ احمد کے مطابق، "مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا کہ ایسی کوئی کمیونٹی موجود ہے، جب تک کہ میں نے ایک آن لائن پوسٹ نہیں دیکھی۔ اب میں نے ملک بھر کے کلکٹرز سے ملاقات کی ہے۔”

اماراتی اور دیرینہ رہائشیوں کے لیے پرانے نوٹوں کا مطلب شناخت اور ماضی کی کہانیوں کو محفوظ رکھنا ہے۔ عائشہ کہتی ہیں، "ہر نوٹ ایک کہانی سناتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ملک کیسا تھا، اور کن چیزوں کو نوٹوں پر چھاپنے کے قابل سمجھا جاتا تھا: قلعے، کشتیاں، باز، اور بازار۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button