خلیج اردو آن لائن:
ڈیوٹی پر موجود دبئی پولیس کے اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنانے والی 32 سالہ خاتون کو تین ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔
دبئی کی ابتدائی عدالت کو بتایا گیا کہ خاتون پر الزام ہے کہ اس نے ڈیوٹی پر موجود خاتون پولیس اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس نے پولیس اہلکار کی فلم بھی بنائی تاکہ وہ اس ویڈیو کو فرانس میں اپنی بہن کو بھیج سکے اور بتا سکے کہ ” دبئی پولیس زیر حراست افراد کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتی”۔
مقدمے کی سماعت میں عدالت نے خاتون مدعاعلیہ کو پولیس اہلکار پر تشدد کرے، اس کی نجی زندگی میں دخل دینے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں قصوار پایا۔ خاتون پر الزام ہے کہ اس حوالات میں ٹی وی کیبل کے کور کو نقصان پہنچایا تھا۔
واقعہ کب پیش آیا؟
یہ مقدمہ 26 جون کا ہے۔ مقدمے کے حوالے سے متاثرہ خاتون پولیس اہلکار نے بتایا کہ وہ الرشیدیہ تھانے میں پنی ڈیوٹی پر تھی جب مدعاعلیہ خاتون کو گرفتار کر کے حوالات میں لایا گیا۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ ” مدعاعلیہ عجیب طریقے سے برتاؤ کر رہی تھی، اس نے اپنا موبائل فون نکال لیے اور میری ویڈیو بنائی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ یہ ویڈیو اور فوٹو فرانس میں اپنی بہن کو بھیج گئی تاکہ دبئی پولیس کو ایکسپوز کر سکے”۔
خاتون پولیس اہلکار نے تفتیشی اہلکاروں کو بتایا کہ مدعاعلیہ نے اس کے احکامات پر عمل نہیں کیا، اور جب وہ اس کو ہتھکڑی لگا رہی تھی تو اس نے اسے دھکا بھی دیا۔
ایک دوسرے پولیس سارجنٹ نے بھی متاثرہ خاتون پولیس اہلکار کے بیان کی تصدیق کی ہے۔
خیال رہے کہ مدعاعلیہ اپنے خلاف آنے والے فیصلے کے خلاف 15 دن کے اندر اندر اپیل دائر کر سکتی ہے۔
Source: Khaleej Times







