Uncategorized

ماں اور بیوی کے علاوہ عورت کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں ؟ اچھی بیوی اور اچھی ماں کے حوالے سے موٹیوشنل اسپیکر کا بیان، سوشل میڈیا پر تنقیدی تبصرے جاری

خلیج اردو
03 نومبر 2020
عاطف خان خٹک
اسلام آباد: پاکستان میں سوشل میڈیا سے شہرتپانے والے موٹیشنل اسپیکر قاسم علی شاہ کا حالیہ ایک بیان سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ملکی تعلیمی نصابوں میں اچھی ماں اور اچھی بیوی بننے سے متعلق مواد موجد نہیں۔

ایک مختصر سی ویڈیو میں قاسم علی شاہ کا کہنا ہے کہ آپ کسی اسکول میں چلے جائیں ، میٹرک تک دس سال کہیں نہیں پڑھایا جاتا کہ اچھی بیوی یا اچھی ماں کیسے بنے۔ کسی اسکول ، کسی کالج یا یونیورسٹی میں عورت کو ایک ماں یا بیوی کے حوالے سے تربیت کے بارے میں نہیں سیکھایا جاتا۔

اس حوالے سے نوبل انعامل یافیہ ملالہ یوسفزائی کے والد ضیاء الدین یوسفزائی کا کہنا ہے کہ اگراچھی بیوی یا اچھی ماں بننے سے متعلق نہیں پڑھایا جاتا تو اچھا شوهر اور اچھا باپ بننا بھی نہیں پڑهایا جاتا۔

صحافی اور شاعر عاطف توقیر کا کہنا ہے کہ کوئی پوچھے کہ گیارہویں بارہویں صدی کے انسان دماغی طور پر کہاں تھے۔ تو کہیے گا لگ بھگ یہاں تھے۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں صدیوں سے ارتقا بالوں اور گریبانوں سے پکڑ کر اپنے ساتھ گھسیٹ رہی ہے، مگر مجال ہیں کہ خود چلنے پر آمادہ ہوں۔ ان کی والدہ کو بھی “اچھی ماں” بننا نہیں سکھایا گیا تھا؟

نوجوان کرکٹ سپورٹر اور ملتان سلطان کے مالک علی ترین کی رائے میں ’کوئی معاشرہ کیسے ترقی کر سکتا ہے اگر اس میں خواتین کی کامیابی کا معیار اچھی بیوی بننا ہے؟ اس میں ان کا قصور نہیں ہے۔ جس معاشرے میں ہم بڑے ہو رہے ہیں وہ معاشرہ ہی ایسا ہے۔ انہوں نے قاسم شاہ کو اپنا ذہن کھولنے اور ماگریٹ میڈ کی کتابیں پڑھنے کا مشورہ بھی دیا

عاشی خالد نامی صارف نے قاسم علی شاہ کے حق میں ٹویٹ کرتےے ہوئے لکھا ہے کہ اس مادر پدر آزادی معاشرے کو قاسم علی شاہ کی باتیں ہضم نہیں ہوتیں۔

سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا ایک اچھی بیوی یا ایک اچھی ماں کے علاوہ عورت کا معاشرے میں کوئی کردار نہیں ہوتا؟

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button