Uncategorized

ابوظبی میں 2027 تک دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت پر مبنی شہر قائم ہوگا: Aion Sentia جدید طرزِ زندگی کا نیا نمونہ

خلیج اردو
ابوظبی نے شہری زندگی میں انقلاب برپا کرنے کے لیے ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے دنیا کا پہلا مکمل طور پر کگنیٹیو یعنی شعور رکھنے والا مصنوعی ذہانت پر مبنی شہر Aion Sentia تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کی تکمیل 2027 تک متوقع ہے۔ یہ منصوبہ امارات کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تمام شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا انضمام کر کے روزمرہ زندگی، کام اور سماجی رابطوں کو نئی جہت دینا ہے۔

اطالوی کمپنی My Aion Inc. کے سی ای او دانیئلے مارینیلی کے مطابق، Aion Sentia صرف اسمارٹ نہیں بلکہ شعور رکھنے والا شہر ہوگا، جو رہائشیوں سے سیکھے گا اور ان کے ساتھ ترقی کرے گا۔ یہ شہر پیشگی خدمات، خودکار انفراسٹرکچر مینجمنٹ، اور توانائی کی حقیقی وقت میں بہتر تقسیم جیسے فیچرز سے لیس ہوگا۔

Aion Sentia کے مرکز میں ایک جدید موبائل ایپ MAIA متعارف کرائی جا رہی ہے، جو شہر کے تمام عوامی و نجی نظام سے جڑی ہوگی۔ MAIA کی مدد سے شہری خودکار ٹرانسپورٹ شیڈول، اسمارٹ ہومز، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی صحت کی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ یہ ایپ صارف کے ڈیٹا پر مبنی ذاتی نوعیت کی سفارشات فراہم کرے گی، جیسے سالگرہ کی مناسبت سے بہترین ریسٹورنٹ کی نشاندہی اور خودکار بکنگ۔

یہ منصوبہ Bold Holding کی ذیلی کمپنی Bold Technologies اور My Aion Inc. کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت 2.5 ارب ڈالر کے Build-Operate-Transfer (BOT) ماڈل پر مبنی ہے۔

MAIA: ایک ایپ، ہر ضرورت کے لیے
میڈیا بریفنگ کے دوران دانیئلے مارینیلی نے بتایا کہ MAIA صرف ایک ایپ نہیں بلکہ ایک کگنیٹیو پلیٹ فارم ہے جو صارف کی عادات، ترجیحات اور تعلقات کو سمجھ کر حقیقی وقت میں فیصلہ سازی کر سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے توانائی، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، اور ڈیجیٹل سروسز جیسے شعبوں میں فوری، مؤثر اور ذاتی نوعیت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

شہری MAIA سے اپنی ماہانہ توانائی کے استعمال کا تجزیہ کروانے سے لے کر ہنگامی صورتِ حال میں حکام کو فوری اطلاع دینے جیسے کام صرف گفتگو کے ذریعے انجام دے سکیں گے۔

عالمی وسعت کی تیاری

Aion Sentia کی ابتدا ابوظبی سے ہوگی اور مستقبل میں اسے یورپ، امریکہ اور دیگر خطوں تک وسعت دی جائے گی۔ مارینیلی نے ابوظبی کے مربوط ضوابط، مضبوط سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو اس منصوبے کے لیے موزوں ترین بنیاد قرار دیا۔

Bold Technologies کے سی ای او ثانی الفلاحی کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف مقامی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ ملک کے مصنوعی ذہانت کے شعبے کو تقویت دے گا۔ اس شراکت داری کے تحت متحدہ عرب امارات کی جامعات کے ساتھ تربیتی پروگرام بھی متعارف کرائے جائیں گے تاکہ مقامی افرادی قوت کو جدید مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button