عالمی خبریں

بھارت کی سپریم کورٹ کا ہیرا گروپ کی سربراہ نوہیرا شیخ کو 25 کروڑ روپے واپس کرنے یا جیل جانے کا حکم

خلیج اردو
دبئی:بھارت کی سپریم کورٹ نے ہیرا گروپ کی منیجنگ ڈائریکٹر نوہیرا شیخ کو حکم دیا ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر 25 کروڑ بھارتی روپے یعنی 10.57 ملین درہم سرمایہ کاروں کو واپس کریں، بصورت دیگر انہیں جیل جانا ہوگا۔

نوہیرا شیخ پر الزام ہے کہ انہوں نے سونے کی سرمایہ کاری کے نام پر ایک بڑے پیمانے پر پونزی اسکیم چلائی اور ایک لاکھ سے زائد سرمایہ کاروں کو 5600 کروڑ روپے یعنی 2.36 ارب درہم سے محروم کر دیا، جن میں متحدہ عرب امارات کے سینکڑوں سرمایہ کار بھی شامل ہیں۔

بدھ کے روز ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے بھارت کی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو حکم دیا کہ اگر نوہیرا شیخ مخصوص وقت میں رقم واپس کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو انہیں گرفتار کر لیا جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وہ نومبر 2024 سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

عدالت نے آخری موقع دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کو تین ماہ کے اندر 25 کروڑ روپے جمع کرانے ہوں گے، بصورت دیگر ان کی ضمانت منسوخ کر کے انہیں دوبارہ جیل بھیج دیا جائے گا۔

ہیرا گروپ نے بھارت اور مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے منصوبے متعارف کرائے۔ متحدہ عرب امارات میں، کمپنی نے دعویٰ کیا کہ ایک لاکھ درہم کی سرمایہ کاری پر ماہانہ 3250 درہم منافع دیا جائے گا، جس کے لیے کم از کم ایک سال کی سرمایہ کاری ضروری تھی۔

ہیرا ٹیکسٹائلز اور ہیرا فوڈیکس جیسے دیگر منصوبوں میں 15 ہزار درہم کی سرمایہ کاری پر 65 سے 80 فیصد سالانہ منافع دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، جس کے باعث کئی سرمایہ کاروں نے قرض لے کر بھی سرمایہ کاری کی۔

2018 میں ہیرا گروپ کی ادائیگیاں اچانک بند ہو گئیں اور کمپنی دیوالیہ ہو گئی۔ نوہیرا شیخ کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کاروں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ متاثرین نے جمیرا لیک ٹاورز، راس الخیمہ اور شارجہ میں کمپنی کے دفاتر اور گوداموں کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔

نوہیرا شیخ کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے پاس رقم واپس کرنے کے لیے فنڈز موجود نہیں، لیکن انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کہا کہ ان کی متعدد جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں، مگر انہوں نے اپنے قانونی دفاع میں ان اثاثوں کا ذکر نہیں کیا۔

اسکینڈل کی تحقیقات بھارت کی سیریس فراڈ انویسٹی گیشن آفس کر رہا ہے، جبکہ نوہیرا شیخ کے خلاف مختلف ریاستوں میں مقدمات درج ہیں، جن میں تلنگانہ، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، کرناٹک اور دہلی شامل ہیں۔

ہیرا گولڈ نے ابتدائی طور پر سرمایہ کاروں کو 36 فیصد تک منافع ادا کیا، جس سے ان کا اعتماد بڑھا، لیکن 2018 میں جب ادائیگیاں رک گئیں تو ہزاروں متاثرین نے شکایات درج کرائیں۔ اکتوبر 2018 میں نوہیرا شیخ کو گرفتار کر لیا گیا، اور تب سے قانونی جنگ جاری ہے، جبکہ سرمایہ کار اپنی رقم واپس لینے کے لیے کوشاں ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button