عالمی خبریں

وائٹ ہاؤس کا اعلان، حکومت کی جزوی بندش کے باعث وفاقی ملازمین کی بڑے پیمانے پر برطرفیاں شروع

خلیج اردو
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جزوی بندش کے باعث وفاقی ملازمین کی بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کو اپوزیشن ڈیموکریٹس پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ حکومتی شٹ ڈاؤن کا خاتمہ کیا جا سکے جو تین ہفتوں سے جاری ہے۔

امریکی بجٹ ڈائریکٹر رس ووٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا کہ انتظامیہ نے اُن 7 لاکھ 50 ہزار سرکاری ملازمین میں سے کچھ کو برطرف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جو شٹ ڈاؤن کے باعث زبردستی رخصت پر تھے۔

انتظامی و بجٹ دفتر (OMB) نے تصدیق کی ہے کہ برطرفیوں کی تعداد "نمایاں” ہوگی، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن محکموں پر اس کا زیادہ اثر پڑے گا۔

ایک عدالتی دستاویز کے مطابق اب تک حکومت 4 ہزار سے زائد وفاقی ملازمین کو برطرف کر چکی ہے، جن میں خزانہ اور محکمہ صحت و انسانی خدمات کے ایک، ایک ہزار سے زائد اہلکار شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ ان برطرفیوں کو ڈیموکریٹس پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "بڑی تعداد میں لوگ نکالے جائیں گے، اور زیادہ تر ڈیموکریٹس سے تعلق رکھنے والے ہوں گے، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بحران انہی کی وجہ سے شروع ہوا۔”

دوسری جانب ڈیموکریٹک رہنماؤں نے ان اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چک شومر نے بیان میں کہا کہ "رسل ووٹ نے صرف ایک ٹویٹ سے ہزاروں امریکیوں کو نوکری سے نکال دیا، یہ وائٹ ہاؤس کی دانستہ افراتفری پھیلانے کی ایک اور مثال ہے۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button