بزنس

2025 میں سیاست، شرحِ سود اور رسک اپیٹائٹ نے عالمی منڈیوں کو کس طرح نئی شکل دی

خلیج اردو

سال 2025 کے اختتام پر بہت سے سرمایہ کار مالی طور پر بہتر پوزیشن میں نظر آئے، حالانکہ یہ سال عالمی منڈیوں کے لیے مسلسل آزمائش کا باعث بنا رہا۔ اپریل میں نئے ٹیرف سے جڑے جھٹکے کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس نے تیزی سے بحالی دکھائی اور مجموعی طور پر سال کے دوران مضبوط منافع کے ساتھ بند ہوئیں، جب کہ امریکا میں شرحِ سود میں تین بار کمی نے قرض لینے کی لاگت گھٹائی اور ویلیوایشن کو سہارا دیا۔ تاہم اصل کہانی مختلف سمتوں سے آنے والے دباؤ میں چھپی رہی، جہاں سونا تاریخی بلندیوں پر پہنچا، تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی، امریکی ڈالر کمزور ہوا اور ہائی رسک اثاثوں نے غیر روایتی منافع دیا۔

عالمی اسٹاک مارکیٹس میں سال کا نمایاں رجحان تیز گراوٹ کے بعد اتنی ہی تیز بحالی رہا۔ اپریل میں ٹیرف سے جڑی فروخت کے بعد عالمی حصص تقریباً 20 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئے، جس سے گزشتہ سات برسوں میں چھ بار دو ہندسوں کا منافع حاصل ہوا۔ تاہم یہ تیزی محدود اور سیاسی خبروں سے حساس رہی، جہاں قیمتوں کا تعین بنیادی معاشی عوامل کے بجائے پالیسی اعلانات سے ہوتا رہا۔

کموڈیٹیز میں سونے نے سبقت حاصل کی، جو 1979 کے بعد سب سے بہترین سال ثابت ہوا اور تقریباً 70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ چاندی اور پلاٹینم نے بھی غیر معمولی تیزی دکھائی اور بعض اوقات 130 فیصد تک بڑھ گئے، جس کی وجہ محفوظ سرمایہ کاری کی طلب اور قیاس آرائی پر مبنی سرگرمیاں رہیں۔ اس کے برعکس تیل کی قیمتوں میں سال کے دوران تقریباً 17 فیصد کمی ہوئی، جو صارفین کے لیے فائدہ مند مگر پیداوار سے جڑی سرمایہ کاری کے لیے یاددہانی ثابت ہوئی کہ رسد و طلب اب بھی جذبات پر غالب آ سکتی ہے۔

امریکی ڈالر میں تقریباً 10 فیصد کمی نے عالمی کرنسی منڈیوں میں پرانے رجحانات توڑ دیے۔ یورو، سوئس فرانک اور سویڈش کرونہ نے نمایاں مضبوطی دکھائی، جب کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں، خاص طور پر میکسیکو اور برازیل، نے دو ہندسوں میں اضافہ ریکارڈ کیا۔

بانڈ مارکیٹ نے شرحِ سود میں کمی اور قرض کے خدشات کے درمیان کشمکش کو ظاہر کیا۔ اگرچہ فیڈ کی جانب سے تین بار شرحِ سود میں کمی نے رسک اثاثوں کو سہارا دیا، تاہم مالی خدشات کے باعث طویل المدتی بانڈ ییلڈز میں اضافہ ہوا اور مئی میں 30 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو بعد میں کچھ کم ہو گئی۔ اس کے باوجود طویل اور قلیل مدتی شرحوں کے درمیان فرق سرمایہ کاروں کی گہری نظر میں رہا۔

مصنوعی ذہانت پر اخراجات نے ایکویٹی منڈیوں میں اعتماد کو برقرار رکھا۔ گولڈمین سیکس کے مطابق بڑی ٹیک کمپنیاں 2025 میں تقریباً 400 ارب ڈالر AI پر خرچ کر چکی ہیں، جب کہ آئندہ سال یہ رقم مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے باوجود سال کے آخر تک بڑی ٹیک کمپنیوں میں ارتکاز کے خطرات پر سوالات اٹھنے لگے۔

کرپٹو مارکیٹ نے بھی سیاست اور لیکویڈیٹی سے جڑا اتار چڑھاؤ دکھایا، جہاں بٹ کوائن نے اکتوبر میں نئی بلند ترین سطح کو چھوا مگر بعد ازاں نمایاں کمی کے ساتھ سال کے اختتام کی طرف بڑھا۔

2026 کا آغاز بھی غیر یقینی حالات کے ساتھ ہو رہا ہے، جہاں امریکا اور دیگر خطوں میں سیاسی سرگرمیاں، مرکزی بینکوں کی پالیسی اور AI سے جڑے سوالات منڈیوں پر اثر انداز ہونے کا امکان رکھتے ہیں، اور یہی کراس پریشرز مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button