
خلیج اردو
دبئی: معروف این ایل پی اسپیشلسٹ اور بزنس کوچ راجیو شرما نے کہا ہے کہ دبئی کی کمپنیوں کے لیے اصل چیلنج حکمتِ عملی بنانا نہیں بلکہ اسے مؤثر انداز میں عمل میں لانا ہے، خصوصاً جب ٹیمیں کثیرالثقافتی ہوں اور صارفین کے تقاضے بلند۔
دبئی، بھارت اور افریقہ میں کاروباری اداروں کے ساتھ کام کے تجربے کی بنیاد پر شرما کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سست روی ’’بورڈ رومز میں نہیں بلکہ روزمرہ گفتگو میں‘‘ پیدا ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جب سیلز، آپریشنز اور ریجنل دفاتر حکمتِ عملی کے پیغام کو مختلف انداز میں سمجھتے ہیں تو منصوبے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، منافع گھٹتا ہے اور گاہکوں کی دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔
شرما نے وضاحت کی کہ متحدہ عرب امارات میں تنظیمیں اب "بیہیویئر بیسڈ ایگزیکیوشن” کے ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہیں، جہاں میٹنگز، کلائنٹ گفتگو اور ٹیموں کے مابین رابطے وہ حقیقی مقامات سمجھے جا رہے ہیں جہاں حکمتِ عملی کامیاب یا ناکام ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دبئی کی کمپنیاں عملی تربیت کے لیے مقامی مارکیٹ کے حقیقی کیسز استعمال کر رہی ہیں — جیسے مختلف ممالک کے فیصلہ ساز یا آخری لمحے کی تجارتی دباؤ کی صورتحال — تاکہ تربیت زیادہ مؤثر ہو۔
راجیو شرما نے کہا کہ جیسے جیسے دبئی کی فرمیں خلیجی اور افریقی منڈیوں میں وسعت اختیار کر رہی ہیں، مختلف قومیتوں کے ساتھ گفتگو میں باریک فرق یا غلط پیغام پورے فیصلے کو تاخیر کا شکار کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق سیلز اس عمل کا ایک حصہ ضرور ہے مگر اصل مقصد تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے معاہدوں کو آگے بڑھانا اور قدر (ویلیو) کا تحفظ کرنا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تربیت کے بعد فالو اپ مواد لائن مینیجرز کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے تاکہ سیکھے گئے ہنر مستقل طور پر نافذ رہیں۔
شرما کی کمپنی NLP Limited نیورو لنگوسٹک پروگرامنگ کو کاروباری اور سیلز گفتگو کے ڈھانچے کے ساتھ ملا کر ایسا تربیتی نظام فراہم کرتی ہے جس میں مینیجرز اور کسٹمر فیسنگ ٹیمیں نیت (انٹینٹ) کو بہتر سمجھ سکیں، مختلف قومیتوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں اور بات چیت کو نتیجہ خیز بنائیں۔






