سونے کے نرخ / کرنسی ایکسچینج

**دبئی میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ: کیا صارفین 14 قیراط زیورات خریدنے پر آمادہ ہوں گے؟**

**خلیج اردو**

دبئی: متحدہ عرب امارات میں سونے کے نرخ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد خریدار اب نسبتاً کم قیمت والے زیورات میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ تاہم، مقامی جیولرز کے مطابق 14 قیراط سونا ابھی بھی خلیجی مارکیٹ میں قابلِ قبول رجحان نہیں بن سکا۔

میِنا جیولرز کے پارٹنر وِنَے جیتھوانی کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں 12 قیراط سے کم درجے کے زیورات کو باضابطہ طور پر “جیولری” تصور نہیں کیا جاتا، جبکہ زیادہ تر خریدار 18 قیراط یا اس سے زیادہ درجے کے سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔

کَنز جیولز کے مینیجنگ ڈائریکٹر انل دھناک نے کہا کہ ان کی کمپنی فی الحال 18 قیراط سے کم درجے کے زیورات پیش نہیں کرتی۔ ان کے مطابق، "ہمارے بیشتر بھارتی صارفین کے لیے 22 قیراط سونا روایت، خالصت اور سرمایہ کاری کی علامت ہے، اس لیے کم درجے کے سونے کی طلب یہاں محدود رہے گی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "سونے کی خالصت میں کمی، سونے کو سرمایہ کاری کے طور پر خریدنے کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔”

فی الحال دبئی میں 24 قیراط سونا 502.5 درہم فی گرام اور 22 قیراط 465.25 درہم فی گرام کے ریکارڈ نرخ پر فروخت ہو رہا ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 4100 ڈالر فی اونس تک پہنچ چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق خلیجی خریدار سونے کو صرف فیشن کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے تحفظ کے طور پر خریدتے ہیں، اس لیے وہ کم قیراط کے بجائے اعلیٰ خالصت والے زیورات کو ترجیح دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button