متحدہ عرب امارات

یو اے ای کے اسکولوں میں عربی، انگریزی اور ریاضی کے نئے اسسمنٹ، وزن اور تقسیم کی وضاحت

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے اسکولوں نے نئے تعلیمی سال کا آغاز طلبہ کی انفرادی صلاحیتوں اور کمزوریوں کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے نئے ڈائیگنوسٹک اسسمنٹ سسٹم کے ساتھ کیا ہے۔ اس نظام کا مقصد ہر طالب علم کی تعلیمی ضرورت کا تعین کرکے اس کے مطابق تدریسی حکمت عملی ترتیب دینا ہے۔

وزارتِ تعلیم کے نصاب پر عمل کرنے والے سرکاری اور نجی اسکولوں میں یہ نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت تمام مضامین میں کلاس روم اسسمنٹس کے ساتھ عربی، انگریزی اور ریاضی کے مرکزی امتحانات بھی شامل ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں یہ نظام گریڈ 4 سے 11 تک کے تقریباً 26 ہزار طلبہ پر نافذ کیا جائے گا۔

نئے فریم ورک کے مطابق مختلف جماعتوں کے لیے اسسمنٹ کے تناسب اور وزن میں فرق ہوگا:

گریڈ 1 اور 2 میں سو فیصد اسکول پر مبنی جائزہ ہوگا۔
گریڈ 3 میں 50 فیصد اسکول پر مبنی اور 50 فیصد مرکزی اسسمنٹ ہوگی۔
سائیکل 2 میں 50 فیصد مرکزی، 40 فیصد فارمیٹو اور 10 فیصد سرگرمی پر مبنی اسسمنٹ ہوگی۔
سائیکل 3 میں 60 فیصد مرکزی اسسمنٹ رکھی گئی ہے۔

اساتذہ کے مطابق اس نظام سے انہیں تعلیمی سال کے آغاز ہی میں طلبہ کی صلاحیتوں اور کمزوریوں کی واضح تصویر حاصل ہوگی تاکہ تدریس کو اسی کے مطابق ترتیب دیا جا سکے۔

ووڈلم پارک اسکول حمیدیہ کی پرنسپل شائنی ڈیوسن نے بتایا کہ ان کا ادارہ اس نئے فریم ورک کے نفاذ کے لیے پہلے ہی تیاری مکمل کر چکا ہے۔ ان کے مطابق اسسمنٹ شیڈول کو تعلیمی کیلنڈر میں باقاعدہ شامل کیا گیا ہے تاکہ پڑھائی کے عمل میں کسی قسم کا خلل نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو اسسمنٹ کے انتظام اور ڈیٹا کے تجزیے کی تربیت دی گئی ہے تاکہ نتائج کی بنیاد پر کمزوریوں کی نشاندہی اور انفرادی سطح پر مدد فراہم کی جا سکے۔

ووڈلم برٹش اسکول عجمان کی پرنسپل نٹالیا سویٹینوک نے کہا کہ ڈائیگنوسٹک اسسمنٹس پہلے ہی ہمارے تدریسی کلچر کا حصہ ہیں، تاہم وزارتِ تعلیم کے نئے فریم ورک کے تحت ہم نے انہیں قومی معیار کے مطابق مزید ہم آہنگ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ابتدائی تشخیص سے اساتذہ کو تدریسی سمت کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے، جس سے ہر طالب علم کو انفرادی بنیاد پر تعاون فراہم کیا جا سکتا ہے اور انہیں کامیابی کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔”

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button