
خلیج اردو
دبئی: برطانوی انجینئرنگ کمپنی پیٹروفیک کا دیوالیہ ہونا صرف ایک کارپوریٹ بحران نہیں بلکہ عالمی توانائی صنعت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ توانائی کی سپلائی چین میں پائے جانے والے بنیادی ڈھانچاتی نقائص اب خلیجی خطے سمیت دنیا بھر میں خطرہ بن سکتے ہیں۔
موڈیز کی سپلائی چین لیڈ سپنا املانی نے کہا کہ پیٹروفیک کا زوال “کاروباری ڈھانچے اور توانائی سپلائی چین میں گہرے نظامی نقائص” کو آشکار کرتا ہے۔ ان کے بقول یہ ایک “حقیقی آزمائش ہے کہ عالمی صنعت خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ اس بحران سے اسکاٹ لینڈ میں دو ہزار سے زائد ملازمتیں، متعدد آف شور آپریشنز اور اہم معاہدے خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
یہ ہیں وہ سات نشانیاں جنہیں عالمی توانائی صنعت نے نظر انداز کیا:
ایک: ایک کمپنی کا زوال پورے خطے کو متاثر کرسکتا ہے
شمالی اسکاٹ لینڈ میں پیٹروفیک کی بڑی موجودگی کے باعث مقامی معیشت اس پر انحصار کرتی تھی۔ جیسے ہی منصوبے رکے، روزگار اور سروسز دونوں متاثر ہوئیں۔ املانی کے مطابق “کسی ایک مقام یا کمپنی پر انحصار مقامی مسئلے کو علاقائی بحران میں بدل دیتا ہے۔” یہی کمزوری خلیجی ممالک میں بھی موجود ہے، جہاں چند بڑے ٹھیکیداروں پر انحصار عام ہے۔
دو: چھوٹے سپلائرز سب سے کمزور کڑی
ہر بڑی کمپنی کے پیچھے چھوٹے سپلائرز کی ایک طویل زنجیر ہوتی ہے۔ املانی کہتی ہیں کہ “یہ ٹئیر 2 اور ٹئیر 3 سپلائرز اکثر نظرانداز ہوتے ہیں لیکن اب خطرے کا اصل ذریعہ بن چکے ہیں۔” محدود سرمایہ اور کمزور سائبر سیکیورٹی انہیں غیرمحفوظ بناتی ہے، اور کسی ایک کی ناکامی پورے نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔
تین: معاہدوں کا ڈھانچہ کمپنیوں کو ڈوبا یا بچا سکتا ہے
پیٹروفیک کی تباہی کی ایک بڑی وجہ فکس پرائس معاہدے تھے جن میں مہنگائی یا تاخیر کا کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ایک بڑے معاہدے کی منسوخی نے مالی بحران، کریڈٹ ڈاؤن گریڈ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے زوال کو جنم دیا۔
چار: توانائی کی منتقلی بھی خطرے سے خالی نہیں
املانی کے مطابق “سبز توانائی کے منصوبے بھی وہی مالی اور عملی خطرات رکھتے ہیں جو روایتی منصوبوں میں ہوتے ہیں۔” پیٹروفیک کا زوال یاد دہانی ہے کہ مزاحمت خود بخود پیدا نہیں ہوتی بلکہ اسے منصوبہ بندی کے ذریعے پیدا کرنا ہوتا ہے۔
پانچ: مالی دباؤ خاموشی سے بڑھتا ہے
کمپنی کی ساکھ نے اندرونی مالی مسائل کو چھپا رکھا تھا۔ جب تک قرض سخت ہوا اور لاگت بڑھی، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ املانی کہتی ہیں، “معمولی مالی اشارے اکثر اصل بحران کو چھپا دیتے ہیں۔”
چھ: سائبر سیکیورٹی نیا خطرہ
چھوٹے سپلائرز میں سائبر تحفظ کی کمی ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ املانی نے خبردار کیا کہ “ایک سائبر حملہ سپلائی چین کے پورے نظام کو مفلوج کرسکتا ہے۔”
سات: مزاحمت ابتدا سے منصوبہ بندی کا حصہ ہونی چاہیے
اکثر کمپنیوں میں بحالی کو تو منصوبہ بنایا جاتا ہے مگر مزاحمت کو نہیں۔ املانی کہتی ہیں کہ “اب وقت آ گیا ہے کہ کمپنیاں منظرنامہ منصوبہ بندی، خطرے کے نقشے اور متنوع شراکت داری کے ذریعے خطرے کو ابتدا ہی سے کم کریں۔”
حاصلِ کلام یہ ہے کہ پیٹروفیک کا زوال اچانک نہیں ہوا، یہ مسلسل نظراندازی کا نتیجہ تھا۔
املانی کے بقول “یہ بحران ایک یاد دہانی ہے کہ لچک خود بخود نہیں بنتی، اسے تعمیر کرنا پڑتا ہے۔”






