متحدہ عرب امارات

بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی، طلبہ احتجاج کو بڑی کامیابی مل گئی

خلیج اردو
بھارت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم نریندر مودی کو پیش کر دیا ہے، جسے ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے پیپر لیک اسکینڈل کے بعد جون سے ہزاروں طلبہ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ احتجاجی تحریک کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کر رہی ہے، جس کا بنیادی مطالبہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا۔

دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے قومی مفاد، طلبہ کے مستقبل اور ملک میں اتحاد برقرار رکھنے کے لیے استعفیٰ دیا تاکہ احتجاج سے ملک دشمن عناصر فائدہ نہ اٹھا سکیں اور طلبہ اپنی تعلیم پر توجہ دے سکیں۔

وزیر تعلیم کے استعفے کی خبر سامنے آتے ہی دہلی کے جنتر منتر میں موجود مظاہرین نے جشن منایا اور "جے ہند” کے نعرے لگائے۔

سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے نے استعفے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج ابھی ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید دو مطالبات پیش کیے، جن میں پیپر لیک اسکینڈل کے باعث خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو ایک کروڑ بھارتی روپے معاوضہ دینے اور 20 جولائی کو مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ شامل ہے۔

دوسری جانب سماجی کارکن سونم وانگچک نے وزیر تعلیم کے استعفے کو "جمہوریت کی فتح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امن، صبر اور مسلسل جدوجہد کی کامیابی ہے، اب احتساب کے بعد تعلیمی اصلاحات کا وقت ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ احتجاج کے دباؤ کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے اور سخت قانون سازی کا بھی اعلان کیا تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button