
خلیج اردو
ریاض: سعودی عرب نے دسمبر کے لیے ایشیا میں اپنے مرکزی تیل کے گریڈ کی قیمت کم کردی ہے، یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اوپیک پلس نے آئندہ سال کے اوائل میں تیل کی فراہمی میں اضافے کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق، سرکاری کمپنی سعودی آرامکو نے اپنے فلیگ شپ عرب لائٹ خام تیل کی قیمت ایک ڈالر بیس سینٹ فی بیرل کم کر کے اسے دسمبر کے لیے علاقائی معیار پر ایک ڈالر کے پریمیم پر مقرر کیا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں نے قیمت میں تقریباً ایک ڈالر پچیس سینٹ کی کمی کی پیشگوئی کی تھی۔
آرامکو نے ایشیائی مارکیٹ کے لیے اپنے میڈیم اور ہیوی گریڈ تیل کی قیمت میں بھی ایک ڈالر چالیس سینٹ فی بیرل کی کمی کی ہے، جبکہ سپر لائٹ اور ایکسٹرا لائٹ گریڈز کی قیمتیں ایک ڈالر بیس سینٹ کم کی گئی ہیں۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب موسم سرما میں تیل کی عالمی طلب میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور مارکیٹ امریکی پابندیوں کے اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہے جو روس کے دو بڑے تیل پیدا کرنے والوں پر عائد کی گئی ہیں۔
لندن مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت رواں سال کے دوران تقریباً 15 فیصد گر چکی ہے اور اس وقت 65 ڈالر فی بیرل سے نیچے ٹریڈ ہو رہی ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل انڈسٹری پر نئی پابندیوں کے بعد قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا تھا، تاہم وہ جلد ہی دوبارہ سابقہ سطح پر واپس آگئیں۔
سعودی عرب اور اوپیک پلس کے دیگر بڑے ارکان نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ دسمبر میں معمولی اضافے کے بعد پہلی سہ ماہی میں تیل کی پیداوار میں مزید اضافہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مارکیٹ شیئر کے دباؤ اور متوقع اضافی فراہمی کے خدشات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔







