
خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد پاکستان میں شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک جانے کی ضرورت نہیں، بہتر ہے کہ بات چیت وہیں ہو جہاں صورتحال سے براہِ راست تعلق ہو۔
ٹرمپ نے مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل کی کارکردگی زبردست رہی اور پاکستان کا کردار انتہائی نمایاں رہا، اس لیے آئندہ دور کے لیے بھی پاکستان ایک موزوں مقام ہے۔
پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے تیار ہے اور پاکستان اس کی اولین ترجیح ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں پانچ سال تک معطل کرنے کی تجویز دی، جبکہ امریکا نے بیس سالہ معطلی اور افزودہ یورینیم کی حوالگی پر زور دیا۔ ایران نے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔
اطلاعات کے مطابق فریقین نے تہران کی جوہری سرگرمیوں کی معطلی سے متعلق مختلف تجاویز کا تبادلہ کیا، تاہم کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ اس کے باوجود امن معاہدے اور بالمشافہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی امید برقرار ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا، جہاں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک بات چیت جاری رہی، تاہم مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی میزبانی اور مؤثر سفارتکاری خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔







