فن و فنکار

سنی دیول کا صبر جواب دے گیا، دھرمیندر کی علالت کو ’تماشہ‘ بنانے پر فوٹوگرافروں پر برہمی

 

دبئی: بالی وُڈ کے معروف اداکار سنی دیول اپنے والد دھرمیندر کی علالت کے دوران اسپتال کے باہر ہونے والے میڈیا ہجوم پر شدید برہم ہوگئے۔ جمعرات کی صبح ممبئی کے اسپتال کے باہر جب فوٹوگرافرز اور ویڈیو کیمروں کا ہجوم اُن کے گرد امڈ آیا تو سنی دیول نے غصے میں آکر انہیں سخت الفاظ میں مخاطب کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق، سنی دیول جذباتی طور پر نہایت پریشان نظر آئے اور فوٹوگرافروں کے شور، دوڑ دھوپ اور مسلسل فلیش لائٹس سے تنگ آگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خاندان خود دھرمیندر کی حالت کے بارے میں غیر یقینی میں تھا، ایسے میں میڈیا کا یہ رویہ تکلیف دہ ہے۔

انہوں نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "تم لوگوں کو شرم نہیں آتی؟ تمہارے بھی ماں باپ، بچے ہیں۔ ہم بھی انسان ہیں۔”
سنی دیول نے مزید کہا، "ہمارے بچے گھر بیٹھے یہ سب دیکھ رہے ہیں، یہ تعاقب اور ہجوم ہمارے لیے اذیت بن گیا ہے۔”

گزشتہ روز اداکارہ ایشا دیول، جو دھرمیندر کی دوسری شادی سے بیٹی ہیں، بھی اسی صورتحال میں اسپتال کے باہر فوٹوگرافروں کے گھیراؤ سے پریشان دکھائی دیں۔ ان کے چہرے اور جسمانی انداز سے واضح تھا کہ وہ میڈیا کی اس بے جا توجہ سے ناخوش ہیں۔

بھارتی فلم انڈسٹری میں پاپرازی کلچر حالیہ برسوں میں بے حد جارحانہ اور منظم ہوچکا ہے۔ ممبئی میں فوٹوگرافرز اب فلم سیٹس کے باہر نہیں بلکہ ایئرپورٹس، جم، ہوٹلز اور پروڈکشن آفسز کے باہر چوبیس گھنٹے تعینات رہتے ہیں۔ ایک فوٹوگرافر وائرل بھایانی کے مطابق، "اب ہمیں تقریب میں بلایا جاتا ہے، مانگنا نہیں پڑتا۔ طلب بہت بڑھ چکی ہے۔”

اس رجحان کو بھارت میں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے عروج نے مزید فروغ دیا۔ اب ستارے اپنی فلموں سے زیادہ اپنی روزمرہ زندگی کے مناظر کے ذریعے مقبول رہتے ہیں، لیکن یہی پہچان اُن کی نجی زندگی میں دخل اندازی کا سبب بھی بن رہی ہے۔

دھرمیندر کی علالت کے دوران میڈیا کی غیر محتاط کوریج نے اس مسئلے کو نمایاں کر دیا۔ خاندان کو افواہوں کے پھیلاؤ کے بعد خود وضاحت دینی پڑی کہ دھرمیندر خیریت سے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، سنی اور ایشا دیول کے ردِعمل دراصل اس بڑھتی ہوئی میڈیا بےحسی کے خلاف ایک علامت ہیں۔ اب فلمی دنیا کا یہ "پاپرازی کلچر” اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں دکھ، بیماری یا ذاتی لمحے بھی عوامی تماشہ بن جاتے ہیں۔

جیسا کہ ایک فلمی پبلسِسٹ نے کہا، "بولی وُڈ نے یہ دیو خود پیدا کیا ہے، اب یہ دیو کسی کے دکھ پر بھی نہیں رُکتا۔”

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button