
خلیج اردو
دبئی: دبئی میں جمعے کی شام سونے کی قیمتوں میں اچانک تقریباً 15 درہم کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد 24 قیراط سونا دوبارہ عارضی طور پر 500 درہم فی گرام کی حد سے نیچے آگیا۔ اس سے قبل امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ ویک اینڈ سے پہلے قیمتیں بلند رہیں گی، تاہم عالمی مارکیٹ میں اچانک اتار چڑھاؤ نے مقامی نرخ بھی نیچے دھکیل دیے۔
صبح کے وقت دبئی کی گولڈ مارکیٹ میں تیزی برقرار رہی اور ریٹیلرز نے اس ماہ کی بلند ترین قیمتیں نوٹ کیں۔ 24 قیراط سونا صبح کے وقت 506 درہم فی گرام تک جا پہنچا تھا، جو گزشتہ ہفتے کی 481 درہم کی اوسط قیمت سے کہیں زیادہ تھا، لیکن شام تک کم ہو کر 492 درہم پر آگیا۔
22 قیراط سونے کا ریٹ بھی گر کر 455.50 درہم ہوگیا، جو دن کے دوران 468.75 درہم تک بلند ہوا تھا۔ جمعرات کو اس میں ایک مختصر کمی کے بعد بحالی آئی تھی۔
مقامی مارکیٹ میں اس ماہ کے دوران مجموعی طور پر قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ نومبر کے پہلے ہفتے میں 24 قیراط کے نرخ 480 سے 483 درہم کے درمیان رہے، لیکن گزشتہ پانچ سیشنز میں یہ 495 سے 506 درہم تک پہنچ گئے۔ اسی طرح 22 قیراط سونا بھی 444 درہم سے بڑھ کر 469 درہم کے قریب جا پہنچا۔
دنوں میں آنے والا حالیہ اضافہ انتہائی نمایاں تھا، تاہم جمعے کو اچانک عالمی مارکیٹ میں تیزی سے ہونے والی کمی نے پورے رجحان کو بدل دیا۔ عالمی سطح پر سونا جمعے کو 2.79 فیصد گر کر 4073 ڈالر فی اونس تک آگیا، جبکہ اس سال سونا مہنگائی کے خدشات اور حکومتی قرضوں میں اضافے کے باعث ریکارڈ بلندیوں پر پہنچتا رہا ہے۔
حالیہ کمی کے باوجود عالمی مارکیٹ رواں ہفتے تقریباً 5 فیصد اضافے کے ساتھ اپنے بہترین ہفتہ وار مظاہرے کی جانب بڑھ رہی تھی۔ سرمایہ کار پھر سے محفوظ سرمایہ کاری کی طرف مائل ہیں جبکہ امریکی معاشی اعداد و شمار کے اجرا سے متعلق بے یقینی بھی برقرار ہے۔
سال کے آغاز سے اب تک عالمی سونے کی قیمت میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوچکا ہے، جو 1979 کے بعد سب سے مضبوط سالانہ کارکردگی ہے۔ مختلف ملکوں کے مرکزی بینک مسلسل سونا خرید کر اپنے ذخائر بڑھا رہے ہیں، جب کہ سرمایہ کار بھی معاشی دباؤ کے خدشات کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔






