متحدہ عرب امارات

UAE: بچوں کے مالی معاملات پر کنٹرول، والدین کے لیے نیا ایپ متعارف

خلیج اردو
دبئی:متحدہ عرب امارات میں والدین کے لیے اپنے بچوں کے مالی معاملات کو محفوظ طریقے سے کنٹرول کرنے کا نیا طریقہ سامنے آگیا ہے۔ یو اے ای میں استعمال ہونے والا ایپ ’بوٹم منی‘ بچوں کو اسمارٹ مالی عادات سکھانے اور کم عمری سے ہی ان کا کریڈٹ اسکور بنانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ ایپ کے نئے فیچرز کے مطابق والدین بچوں کے لیے خرچ کی حد مقرر کر سکیں گے، مختلف خریداری کی کیٹیگریز پر پابندی لگا سکیں گے اور بچوں کو پری پیڈ، ملٹی کرنسی والیٹس تک رسائی دے سکیں گے، جس سے روزمرہ کی خریداری تربیت کا ذریعہ بن جائے گی۔

ایسٹرہ ٹیک کے سی ای او ڈاکٹر طارق بن ہندی نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں بتایا کہ والدین باآسانی اُن چیزوں کو آن یا آف کر سکتے ہیں جن پر بچوں کو رقم خرچ کرنے کی اجازت ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیچر والدین کو مکمل کنٹرول دیتا ہے کہ بچے کس چیز پر کتنا خرچ کر رہے ہیں، جو مستقبل میں بچوں کی مالی ذمہ داری کا اہم حصہ بنے گا۔

ڈاکٹر طارق کے مطابق ایپ کے نمایاں ترین فیچرز میں سے ایک بچوں کے لیے کریڈٹ اسکور کی تعمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر میں اکثر ایسے نوجوان سامنے آتے ہیں جن کے پاس کریڈٹ ہسٹری نہ ہونے کے باعث انہیں اکاؤنٹ کھلوانے میں مشکلات ہوتی ہیں، مگر یہ نیا فیچر والدین کو اپنے بچوں کا مالی ریکارڈ مضبوط بنانے کا موقع دے گا۔

مالی شمولیت کی جانب اہم قدم

ایپ نہ صرف خاندانوں بلکہ یو اے ای کی بڑی ورک فورس کے مالی مسائل بھی حل کر رہی ہے۔ بوٹم منی ورچوئل آئی بان، ریمٹنس سروسز اور قرض کی سہولتیں فراہم کر کے ان لاکھوں افراد کو بینکاری نظام میں لانے میں مدد دے رہی ہے جو تاحال بینک اکاؤنٹس سے محروم ہیں۔ ڈاکٹر طارق نے بتایا کہ یو اے ای میں 40 لاکھ سے زائد افراد ان بینکڈ یا انڈر بینکڈ ہیں، اور ایپ انہیں کریڈٹ، بچت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں تک رسائی فراہم کر رہی ہے۔

یہ پورا مالیاتی ماحولیاتی نظام فوری سہولت کے ساتھ ساتھ طویل مدتی مالی استحکام کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ایک عام ریمٹنس ٹرانزیکشن کرنے والا صارف مستقبل میں مائیکرو قرضے، بچت منصوبے اور دیگر مالی مصنوعات کے لیے بھی اہل ہو سکے گا۔ کمپنی ایپ میں اے آئی پر مبنی مالی تعلیم کو بھی شامل کر رہی ہے تاکہ پہلی بار قرض لینے والوں کو repayment، بجٹ سازی اور بچت جیسے تصورات مختلف زبانوں میں سکھائے جا سکیں۔

تبدیل شدہ حکمت عملی

بوٹم نے ابتدا میں سوپر ایپ بننے کا ارادہ کیا تھا، مگر اب کمپنی نے واضح حکمت عملی اپنائی ہے کہ وہ صرف صارفین کی مالی ضروریات کو بہترین طریقے سے پورا کرنے پر توجہ دے گی۔ ڈاکٹر طارق کے مطابق ایپ کی اپ ڈیٹس کے بعد صارفین کی دلچسپی تین گنا بڑھ گئی ہے اور وہ مالیاتی فیچرز کو پہلے سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔

کمپنی مستقبل میں بین الاقوامی وسعت کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے، لیکن اس کا بنیادی ہدف یہی رہے گا کہ بینکاری نظام سے باہر رہنے والے افراد کے لیے مالی رسائی اور تعلیم کو محفوظ، آسان اور مؤثر بنایا جائے۔ ڈاکٹر طارق نے کہا کہ حقیقی کامیابی تب ہو گی جب آج ایپ استعمال کرنے والا بچہ بڑے ہو کر مضبوط کریڈٹ پروفائل اور مالی نظم و ضبط کے ساتھ عالمی مالیاتی نظام تک مکمل رسائی حاصل کرے گا۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button