پاکستانی خبریں

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دہشت گردی، صوبائی خودمختاری اور سیاسی حالات پر واضح مؤقف

خلیج اردو
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صحافیوں سے گفتگو میں دہشت گردی، صوبائی پالیسیوں، سیاسی عمل اور حکومتی طرزِ عمل سے متعلق اپنے موقف کا جامع انداز میں اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے سخت خلاف ہیں، تاہم موجودہ پالیسیوں پر سنجیدہ اعتراضات موجود ہیں، اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ازسرِ نو جامع حکمت عملی تشکیل دینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو نیشنل ایکشن پلان میں مؤثر کردار دیا جائے تاکہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ بند کمروں کی پالیسیوں کے باعث 80 ہزار پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نئی پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 21 برس میں 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے باوجود دہشت گردی میں اضافہ سوالات کو جنم دیتا ہے، اس لیے قبائلی عمائدین کو ایک موقع دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نظریۂ ضرورت کو ترک کرنا ہوگا اور صوبے میں منعقدہ جرگہ متفق ہے کہ محض آپریشن حل نہیں ہے۔

وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ ہم سب کا اتفاق ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے، اور ہم پوری دیانت سے پاکستانی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک صحافی کے ذریعے ان سے پاکستان سے علیحدگی کے بارے میں سوال پوچھا گیا، جو انتہائی نامناسب تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بعد شاید ایسے عناصر سامنے لائے جائیں جو علیحدگی کی بات کریں، مگر ہم پاکستان کے مخلص اور وفادار ہیں۔

اپنے قائد سے ملاقات کے معاملے پر سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ان کے قائد ہیں اور انہیں ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ تمام قانونی راستے اختیار کیے جا چکے ہیں اور اب صرف دو آپشنز رہ گئے ہیں: احتجاج یا ’’ڈگی والا‘‘ راستہ۔ احتجاج کی کال سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ نومبر میں کچھ اور دسمبر میں بہت کچھ ہوگا، اگر احتجاج کی کال دی تو عوام بڑی تعداد میں نکلیں گے، کیونکہ ڈی چوک آنا ان کا جمہوری حق ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب کے مردِ اوّل نے ہری پور میں مسلسل انتخابی مہم چلائی لیکن کوئی قدغن نہ آئی، جبکہ مرتضیٰ جاوید عباسی نے سخت بیانات دیے مگر کارروائی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق ن لیگ کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی وجہ جمہوریت کا احترام ہے، لیکن دوسری جانب لاہور میں پی ٹی آئی ورکرز پر مقدمات بنائے جا رہے ہیں اور الیکشن دفاتر بند کیے جا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جسے عوام ووٹ دیں، جیتے بھی وہی، جعلی فارمز نہ بنیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چند روز انتظار کریں گے، اگر بانی پی ٹی آئی کی آئیسولیشن ختم نہ کی گئی تو وہ احتجاج کی کال دینے پر مجبور ہوں گے۔

Chief Minister KP Sohaib Afridi’s Remarks on Terrorism, Rights, and Political Challenges

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button