
خلیج اردو
کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن کے جنوب مشرق میں واقع گری ننز ہاسپٹل میں ایمرجنسی وارڈ میں آٹھ گھنٹے سے زائد انتظار کے بعد 44 سالہ بھارتی نژاد شہری پرشانت سری کمار مشتبہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پرشانت سری کمار کو 22 دسمبر کو دورانِ کام شدید سینے میں درد محسوس ہوا، جس پر ایک کلائنٹ انہیں فوری طور پر ہاسپٹل لے گیا۔
رپورٹس کے مطابق ہاسپٹل پہنچنے پر انہیں ٹرائیج میں رجسٹر کیا گیا اور بعد ازاں ایمرجنسی روم میں انتظار کرنے کو کہا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد ان کے والد کمار سری کمار بھی ہاسپٹل پہنچ گئے۔ ان کے والد کے مطابق ان کے بیٹے نے درد کی شدت سے کہا، بابا، میں یہ درد برداشت نہیں کر پا رہا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ہاسپٹل کے عملے نے الیکٹروکارڈیوگرام کیا، تاہم انہیں بتایا گیا کہ اس میں کوئی غیر معمولی بات سامنے نہیں آئی، جس کے بعد پرشانت کو دوبارہ انتظار گاہ میں بٹھا دیا گیا۔ خاندان کے مطابق درد کے لیے صرف ٹائلینول دی گئی، جبکہ اس دوران ان کا بلڈ پریشر مسلسل بڑھتا رہا۔ والد کا کہنا تھا کہ بلڈ پریشر اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ وہ ان کے لیے انتہائی تشویشناک ہو چکا تھا۔
آٹھ گھنٹے سے زائد انتظار کے بعد جب بالآخر پرشانت کو علاج کے کمرے میں بلایا گیا تو ان کے والد کے مطابق وہ چند سیکنڈ بیٹھے، پھر اٹھے، سینے پر ہاتھ رکھا اور زمین پر گر پڑے۔ نرسوں نے انہیں بچانے کی کوشش کی، مگر وہ جانبر نہ ہو سکے اور مشتبہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے ان کی موت واقع ہو گئی۔
پرشانت سری کمار کے پسماندگان میں اہلیہ اور تین بچے شامل ہیں، جن کی عمریں تین، دس اور چودہ سال بتائی جا رہی ہیں۔ اس واقعے پر ہاسپٹل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاملہ آفس آف دی چیف میڈیکل ایگزامنر کے زیرِ جائزہ ہے۔ کووننٹ ہیلتھ نیٹ ورک کے تحت چلنے والے گری ننز ہاسپٹل نے بیان میں کہا کہ وہ مرحوم کے اہلِ خانہ اور دوستوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور مریضوں کی حفاظت اور نگہداشت ان کی اولین ترجیح ہے۔







